Friday, September 23, 2016

حیرت کدے میں چند روز​ .. بحر احمر سے بحر روم تک - دیکھہ  ذرا کرتار کے کھیل

Sunset at Red Sea at the back of my house, Duba, Tabuk Region, Northern Saudi Arabia


 دیکھہ  ذرا کرتار کے کھیل
 
 آوارہ گردی کا یوں تو  ہمیں بچپن بلکہ  شیر خوارگی کی عمر سے 
​ہی 
 ​
شوق تھا.  اسکول کے زمانے میں  آوارہ گرد کی  ڈائری  پڑھی تو یہ دو
​آ 
تشہ ہو گیا اور ابن بطوطہ  بننے کے شوق نے ہمیں انگریزی اور اردو کا
​ سفر  suffer ​
خوب کرایا.  ہمارے  مالی حالات کبھی قابل
​ ​
رشک نہ رہے مگر وہ  جو کہتے ہیں
​ع ​
 دل والوں کی دور پہنچ  ہے ظاہر کی اوقات نہ  دیکھہ 
 
 انگریزی کا محاورہ when there  is a will there is a way   یعنی جہاں چاہ وہاں راہ  ہمارے اوپر کچھہ  زیادہ 
​​ہی
 صادق آتا چلا گیا. 
​اسی ​
 ​
 شوق کے  سبب سن ٢٠٠٠  میں  بذریعہ قاہرہ یورپ کے سفر کا موقع ملا.
 
بحر احمر کو  پار  کر کے مصر پہنچنے  کا ہمارا خواب بھی بہت پرانا تھا. سن ١٩٩٦ میں زمانہ  طالب علمی میں اپنے عمرے  کے سفر کے دوران مکّہ مکرّمہ میں بڑی تعداد میں مصریوں  کو دیکھا تو معلوم ہوا 
​کہ
 ​
 یہ بحری جہاز کے ذریعہ عمرے  اور حج کی ادایگی کے لیے آتے ہیں. نقشہ کھنگالا تو معلوم  ہوا سعودی عرب کی بندرگاہ  ینبوع   سے مصر کا فاصلہ کچھ زیادہ نہیں. اسی وقت سے یہ خواہش بیدار ہوئی کے بحر احمر کو 
​پار
 کر کے سنّت موسیٰ  پر عمل  کی سعادت  حاصل کی  جاے
​. ​
 گو انکے تعاقب میں فرعون کی فوج تھی اور ہمیں کوئی ایسی مجبوری لاحق نہ تھی. ایک عشرے بعد یہ خواہش کچھ اس طرح تکمیل کو پہنچی کے مشت الہی  نے ہمیں بحر عرب کے ساحلوں سے  مملکت سعودیہ کے  مصر سے  قریب ترین مقام میں 
​پہنچا دیا 
.
 
حسن کو سعودی منسٹری آف ہیلتھہ میں ایک اچھی آفر ہوئی  جو حجاز کی سرزمیں پر ہمارے رہائش اختیار کرنے کی دیرینہ  خوہش کی تکمیل کا سبب بھی بنی اور سنّت موسیٰ پر عمل کی  بھی.حسن
​ 
کی تعیناتی گو تبوک میں ہوئی تھی مگر انکی روانگی کے بعد علم ہوا کے اصل پوسٹنگ   تبوک شہر میں نہیں   بلکہ ایک قریبی ساحلی شہر میں ہے. انٹرنیٹ سے رجوع کیا ------- قریب ترین ساحلی شہر   ضبا أ لشمال  جو کے بندر گاہ ہی ہے اور عام طور سے مصر کے شہر غرغدا اور اردن کی بندر گاہ عقبہ  کے لیے جہاز آپریٹ ہوتے ہیں. مکّہ اور مدینے سے فاصلے کا جایزہ لیا تو معلوم ہوا  کے مدینہ کے مقابلہ میں بیت المقدس (یروشلم )  سے فاصلہ قدرے کم. گو مقبوضہ فلسطین پر اسرایلی قبضے کے سب بیت المقدس کا سفر پاکستانی پاسپورٹ  پر    تقریبآ  ناممکن خصوصا اس صورت میں کے آپ سعودی عرب میں ملازمت
​ اور ​
 رہائش رکھتے ہوں. اور یوں ہم نومبر ٢٠٠٦ میں
​ 
 اپنے   (ٹیلی کام) PHD کونامکمّل چھوڑ کر
​آی بی اے (IBA) کی تدریسی زمداریوں  سے
 
​ایک سال کی طویل رخصت پر
 ​
بچوں سمیت  مملکت کی شمالی سرحد پر  واقع اس چھوٹے  سے شہر میں آ پہنچے.  کوئی پچاس ساٹھہ ہزار کی آبادی کا خوبصورت سا شہر اور ساحل پر واقع ہمارے  گھر کی کھڑکیوں سے بحر احمر کا نظارہ.  ہم نے خواب  میں بھی کبھی  بحر احمر کو اپنے گھر کے پچھلے صحن میں نہیں دیکھا تھا. کراچی کے مقابلے میں خوب کھلی کھلی   سڑکیں  صاف پانی  اور  تازہ  ہوا. 
 
اب ضبا   پہنچ کر نہ  آئ  بی  اے  کے  لیکچر تیار  کرنے کی مصروفیت  نہ خوفناک   اساینمنٹس  نہ  کلاس میں پہنچنے کی جلدی اور نہ  منتھلی ایگزام  کی تیاری
​،​
 نہ دقیق  ریسرچ پپیرس  اور نہ پریزینٹشنز اور 
​نہ ہی ​
   کانفرنسس . یعنی ہم یک جنبش طیارہ  درس و  تدریس کی  ذمہ داریوں   سے فارغ ہو گئے تھے. 
​حسن شہر کے واحد چیسٹ اسپیشلسٹ تھے اور آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کے علاوہ بھی مسلسل کال پر رہتے. یکایک معمول میں تبدیلی سے ہمیں مستقل بےخوابی رہنے لگی. کہاں کراچی میں  سونے کا وقت نہیں ملتا تھا اور یہاں رات گزرنا مشکل ہو گیا.
 
 
راتوں کو انٹرنیٹ کی تلاوت ہمارا معمول بن گئی.
 
تاریخ کا مطالعہ شروع کیا  تو معلوم ہوا یہ علاقہ تاریخی طور پر  مدین کا حصّہ  رہا ہے.  حضرت موسیٰ مصر سے پہلی مرتبہ  ہجرت  کے بعد یہیں مقیم  ہوے.  گو مدین کی جغرافیای حدود  کا آغاز دریاۓ اردن  سے ہوتا تھا .  شامی مصنف ڈاکٹر شوق الخلیلی کی ترتیب کردہ اطلس القرآن  وغیرہ کے مطالعہ اور خصوصا  اس علاقے کا قرآن  میں تذکرہ ہونے کے سبب ہماری دلچسپی   ارض قرآن میں بڑھتی چلی گئی  جو جغرافیائی  لحاظ سے ہمیں گھیرے ہوۓ تھا.  ہمارا سارا سال اردن مقبوضہ فلسطین اور اس سے آگے شام ترکی  اور بحر احمر کے پار مصر کی سیاحت کے خواب دیکھتے گزر گیا. مقبوضہ فلسطین، اردن اور مصر کی سرحد کوئی تین سو کلومیٹر شمال میں اور مکّہ اور مدینہ جنوب میں- دونوں آٹھ سو کلومیٹر کی مسافت پر. ان میں مصر اور اردن جو ہم سے صرف تین سو کلو میٹر کے فاصلے پر تھے کی سیاحت کا زیادہ اشتیاق رہا. 
​ایک سعودی چینل پر
 ​
مصر کی  ایک  ٹریول ڈاکومنٹری میں جنوبی مصر میں موجود فراعئنہ کے مقابر اورعا لی شان مندر دیکھ کر ہمارا دل للچانے لگتا. 
 
حسن ابتدا میں بچوں کے ساتھہ 
​بیک پیکنگ ٹرپ 
 کے لئے راضی نہیں تھے انکا کہنا تھا کے کہ سیاحت کا شوق مجھے بھی ہے مگر میں تمہاری طرح دیوانہ نہیں ہوں. اب ہم کیا جواب دیتے انشا جی  پہلے ہی
​ہمارے بارے میں
 کہہ 
​گئے 
 ہیں
​.​
 
ع 
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ 
​کیا 
 

بدقّت تمام حسن کو مصر  
​کی 
 اس آوارہ  گردی کے لئے راضی 
​کیا
  اور اس سے بہت قبل ہم کامیابی کی امید پر 
ضبا سے غرغدا  کے بحری سفر -- مصر کے قابل دید  مقامات  کے تاریخی تذکرہ  اور سیاحتی احوال وغیرہ کا اپنا ہوم ورک  تقریبا مکمّل کر چکے تھے. سفر کا پلان بھی تیار
​ہی
 تھا جس کے مطابق 
ضبا  سے
​ ​
غرغدا وہاں سے تقریبا چار سو کلو میٹر کی مسافت پر سوڈان 
​کی ​
 ​
 سرحد سے قریب فراعنہ کے عہد وسطیٰ اور عروج کے مرکز حکومت الا قصر
​،​
  الا قصر  سے قاہرہ اور قاہرہ سے اسکندریہ اور پھر غرغدا واپسی شامل تھے.
​ ​
لیکن سمندر پار کے   مختصر سفر سے پیشتر نو سو کلومیٹر دورجدّ ہ جا کر ویزا لینا بھی ضروری تھا.  


تیز ترک گامزن منزل ما دور نیست

​تیز ترک گامزن منزل  ما دور نیست ​

ہم  رات تقریباً  آٹھ  بجے امیگریشن سے فارغ ہوے. حسن کا خیال تھا کے رات غرغدا (Hurgada) میں ہی قیام کیا جاۓ اور آرام کر کے کل اگلی منزل یعنی الا قصر شہر کی طرف کوچ کیا جائے لیکن اس سے ہمارا ایک پورا قیمتی دن ضا یع ہو جاتا .  اس لئے  طے یہ پایا کے آگے نکلا جاۓ.  . الا قصر قاہرہ سے کوئی ٥٠٤ کلومیٹر(ہوائی فاصلہ) جنوب میں اور غرغدا سے ٢١٠ کلومیٹر.ہمارا خیال تھا کہ ہم بآسانی اگلے دوسے تین گھنٹے میں الا قصر پہنچ  سکتے تھے پھر تاخیر چہ مانی درد؟
 کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کر ہم کوئی گیارہ بجے غرغدا سے نکلنے میں کامیاب ہوے. معلوم ہوا رات کے اس پہر الا قصر کے لئے براہ راست ٹرانسپورٹ ملنی مشکل ہے.ٹیکسی والے جہاز کا کرایا مانگ رہے  تھے. ہم نے ان سے معذرت کر کے قنا کے لئے ما ئکروبس پکڑی جو خطّے  کا مرکزی شہر ہے اور القصر سے کوئی ساٹھ کلومیٹرز کے فاصلے پر ہے. 
  
کراچی جیسی  سڑکیں اور  کراچی کی منی بسوں جیسا ہی ڈرائیور، اس خطرناک حد تک تیز رفتار ڈرائیونگ سے حظ  اٹھاتے ہوے ہم رات تین ساڑھے تین بجے قنا پوھنچے  تو بچے اور حسن کے علاوہ ہم بھی تھکن سے چور ہو چکے تھے. تھکن کی ایک بڑی  وجہ قوالی اور پاپ میوزک کے ملاپ سے پیدا ہونیوالی وہ تیز میوزک تھی  جس سے ما ئکروبس کا ڈرائیور پتہ  نہیں لطف اندوز ہو رہا تھا یا  نیند سے بچاؤ کے لیے  استعمال کر رہا تھا. 

 قنا کے سونے بس اسٹینڈ پر ایک ٹیکسی ڈرائیور کے علاوہ دور دور تک ہمارے استقبال کے لئے کوئی موجود نہیں تھا. ہم نے عاجزی سے مجبور ہو کر اس استقبال کو غنیمت جانا اور پچاس مصری پاؤنڈ کے عوض الاقصر کے مشرقی کنارے کی طرف  عا زم  سفر ہوے.

قنا سے الا قصر کے سفر میں دوران  نیل سے نکلی ہوئی لا تعداد نہریں ہماری ہم رکاب تھیں.پورے چاند کی روشنی میں انکے کنارے گھنے کھیت نیل کی مٹی  کی زرخیزی کا پتہ  دے رہے  تھے. سڑک  پر دور دور تک کوئی گاڑی  نظر نہیں آ رہی تھی مگر حسنی مبارک کی  تصا ویر جا بجا مصری قوم کی اپنی  ڈکٹیٹر سے محبّت  کے  ناقابل تردید ثبوت  کے طور پرنظرآ رہی تھیں  تھیں. یہ محبّت صرف مشرق وسطیٰ کے ہی لیڈرز کے حصّے میں آتی ہے ورنہ امریکا اور یورپ کےعوام  کو اسکا کیا ذوق؟

 ٹیکسی کی بند کھڑکیوں سے بھی سردی اپنے وجود کا احساس دلا رہی تھی. سونے کے لئے ایک آرآمدے بستر کی ضروررت شدّت سے محسوس ہو رہی تھے اور ہم اپنی منزل الا قصر کے قبل دید مقامات کے بجاے نیوبیا اوئیسس ہاسٹل  کے بارے میں سوچ رہے تھے جہاں ہم نے کمرہ بک کروا رکھا تھا. دل ہی دل میں ہم اپنے ایڈونچر کی خاطر بچوں اور حسن کو اس طرح بے آ رام کرنے پر پشیمانی بھی محسوس کر رہے  تھے.

آج ہم ان سطور کو تحریر کرتے وقت یہ سوچ رہے  ہیں کے غرغدا سے الا قصر کے اس سفر کے دوران اس ویران رات میں ہمارے ساتھ کوئی حادثہ بھی پیش آ سکتا تھا؟ ٹیکسی ڈرائیور اگر کسی مقام پر ہمیں لوٹنے کی کوشش کرتا تو الله کے سوا ہمیں بچانے والا کون تھا؟ 

یا اگر قنا کے بس اسٹاپ پر وہ واحد ٹیکسی والا موجود ہی نہ ہوتا اور ہمیں وہیں صبح  کرنی پڑتی. ایڈونچر سے بھرپور ہمارے سابق تجربات کا نچوڑ یہ ہے کے الله اپنے بندوں کا ان سے بڑھ کر خیال رکھنے والا ہے. وہ ہمارے لئے محفوظ راستہ کہیں نہ کہیں سے نکل لیتا ہے. ایسے کے ہم آنے والی مشکلات کا اندازہ بھی نہیں کر پاتے اور اسکا حل تیّارہوتا ہے.

مصر عمومی طور پر سیاحوں کے لئے محفوظ ملک سمجھا جاتا ہے کم از کم ٢٠٠٧ میں یہ بہت محفوظ تھا حالانکہ  شرم الشیخ، مملوک دور کی تعمیر کردہ  قاہرہ کی خان الخلیلی کے علاوہ الا اقصر  کے مغربی کنارے پر خاتون فرعوں ہیچپسٹ  کے مندر پر بھی اس سے پیشتر دہشت گرد حملے ہو چکے تھے لیکن اسکے باوجود ہم نے الا قصر سے اسکندریہ تک مصر کو مغربی ممالک سے زیادہ محفوظ پایا. اور یہی مغربی سیاحوں کی راے  ہے جو مصر کا سفر کر چکے ہیں. یہاں تک کے فل وقت  مغربی ٹورسٹ ویب سائٹس ٹریپ ایڈوائزر اور ورچوئل ٹورسٹ اکیلی خواتین سیاحوں کے لئے بھی مصر کو محفوظ قرار دیتی تھیں گو انھیں مناسب ڈریس کوڈ وغیرہ کا مشورہ دیا جاتا ہے.حال ہی میں  یہی مشورہ انڈیا کے ثقافت کے وزیر نے  تاج محل دیکھنے  آگرہ آنے والی  مغربی خواتین کو بھی دیا تو ایک شور سا مچ گیا کے وزیر صاحب انھیں برقع پہنانے کی کوشش کر رہے  ہیں.  فرانس میں تو ویسے ہی برکینی بحث نے ساری  دنیا کے میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے. یہ موضوع  پھر کبھی سہی.

فجر سے کچھ قبل ہم الاقصر پھنچنے میں کامیاب ہوے.شہر دریاے نیل کے مشرقی کنارے پر ہے اور فرِاعنہ   کے مندر اورزیر زمین  مقبرے  مغربی کنارے پر.مگر شہرکے بیچوں بچ  الا قصر کا مندر دور فراعنہ  کی یاد تازہ کرنے موجود ہے اور مندر کے اندر قرون وسطیٰ  کی ایک مسجد بھی.  شہر کو اندھیرے نے گھیر رکھا تھا مگر پھر بھی الا قصر کے عالی شان مندر کے  دیو ہیکل ستون دور سے ہی اپنے وجود کابھرپور  احساس دلا رہے  تھے. ہمارا دل بلیوں اچھلنے لگا. ہم عرصہ  ایک سال سے جن کھنڈرات کی خاک چھاننے  کے لئے مچل رہے  تھے وہ آج نظروں کے سامنے تھیں. 

    شا رع   فرید پر واقعہ نیوبیا اوئیسس  ہاسٹل 
ہاسٹل ڈھونڈنے کے چکر میں ہم نے چھوٹے سے شہر کے  کوئی تین چکّر لگا لئے. فجر کے وقت تھوڑی روشنی پھیلنے پر دو نوجوان بڑے بڑے  پروفیشنل کیمرے لئے  الا قصر کے مندر کےباہر نظر آے مگرشا رع فرد کا پتہ ندارد . آخر کر نائٹ ڈیوٹی کرنے والے ایک گارڈ نے ہماری رہنمائی کی اور ہم وہاں پھنچنے میں کامیاب ہوے جہاں سے ہم دو دفعہ ہم پہلے بھی گزر چکے تھے. 

پتلی مگر لمبی سی گلی اورآ س پاس  ہو کا عالم.نیوبیا اوسس ہاسٹل آپکا دوسرا  گھرکا نیون سائن شیشے کے دروازے پراندھیرے میں بھی جگمگا رہا. ٹرانسپرنٹ دیوار سے اندر جھانکا . نہ آدم نہ آدم زاد. پتہ نہیں ہمارے خوف نے د رو دیوار کو ویران کر دیا تھا یا غلطی ہماری اپنی تھی جو بے وقت شہر میں داخل ہوے. کھٹکھٹانے پر ایک سیاہ  فام لڑکا آنکھیں ملتا باہر آیا. انگریزی میں یہ بتانے پر کے ہم فون پر ہاسٹل بک کروا چکے ہیں ہمارے مندرجات نوٹ کرنے کے بعد بغیر کچھ کہے ہمارا سامان اٹھا کر اپر لے گیا. چوتھے فلور پر پھنچ کر کمرہ کھولا. کمرہ دیکھ کر طبیعت خوش ہو گئی. وال تو وال کا رپٹ،کلف لگی  سفید چادروں  میں ملبوس  بیڈ، صاف و شفاف تولئے، ہمیں اور کیا چاہیے تھا؟ گو بلڈنگ پرانی تھی اور ہاسٹل کی ظاہری حالت اچھی نہ تھی مگر بڑی  تعداد میں مغربی سیاحوں کی آمد اور قیام کے سبب ان ہاسٹلوں کو سروس کا معیار  بہتر بنانا پڑتا ہے. الا قصر شہر بلکہ سارے مصر میں میں ایسے کئی  بیک پیکرز ہاسٹلز ہیں. ہم نے نیٹ پر ریویؤز کی بنیاد پر اس ہاسٹل کا سلیکشن کیا تھا. 

محمّد ہمارا سامان ر کھ کر واپس جا رہا تھا کہ ہم نے آواز دے کر ناشتے کے بارے میں دریافت کیا. ناشتہ صبح آٹھ بجے اور کچن ؟ ہم نے بچوں کی دودھ کی بوتلیں دیکھایں ہماری  چار  سے سات سالہ تینوں  بیٹیاں خیر سے فیڈر سے ہی دودھ پیتی تھیں. . وہ ہمیں چھت پر لے گیا. وسیع روف ٹاپ، نیوبیا کے روایتی رنگوں کے امتزاج سے سجائی  گئی تھی . افریقی انداز کا اوپن ایئر ریسٹورنٹ - فرش سے کوئی ڈیڑھ فٹ  اونچا کشادہ ٹی وی لاؤنج، دبیز قالین اور  بھا ری بھرکم کشن سے مزیّن. شیشے کی دیوار والا چھوٹا سا فرج جس میں شراب کی بوتلیں جھانک رہی تھیں. یاد آیا کہ ہم حجاز کی سر زمین چھوڑ کر افریقہ میں داخل ہو چکے ہیں. 

غنیمت کچن کا فریج امل خبا ئیث سے پاک تھا. جیلی کے پیکٹ، ڈبل روٹی، دودھ، اور ناشتے کا سامان تازہ پھل وغیرہ وافر مقدار میں. محمّد سے پوچھ  کر ہم نے ڈبل روٹی کے کچھ ٹکرے، جیلی کے پیکٹ اور پھل وغیرہ اٹھاۓ تا کہ  پیٹ کی آگ کو کچھ تو ٹھنڈا کر سکیں جو سا ری رات سفر کے بعد اب شدّت سے  گڑگڑا رہی تھی. واپس کمرے میں آ کر دودھ بچوں کے حوالے کیا اور ہم نے اور حسن نے دو چار لقمے زہر ما ر کئے اور سونے لیٹ گئے.

صبح کی روشنی کے ساتھ نیچے بازار کا شور بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بلند ہوتا گیا اور اسکی مناسب مقدار کمرے کی واحد کھڑکی کے زریعہ اوپر پھنچتی رہی لیکن ہم اس سے بےنیاز ڈھیٹ بن کر صبح دس بجے تک اپنی نیند پوری کرتے رہی.

بچوں کو اٹھانے کے بعد ناشتے کے لئے او پر گئے تو ایک کورین  لڑکی کو محمّد کے ساتھ تیزی سے ناشتہ تیار کرتے پایا . ناشتے میں آملیٹ ، تازہ پھل جیلی اور چاے . ہم نے بھی اگلے پچھلے سارے بدلے نکا ل ڈالے . سفر سے بچوں کی بھوک کھل چکی تھی اور وہ بھی اوپن ایئر ڈائننگ سپیس سے لطف اندوز ہو رہی تھے.               
  
ناشتے کے دوران ہالینڈ سےآی ہوئی دو سیاح خواتین سے گفتگو رہی جو قریب ہی ایک تخت پر بیٹھی مزے سے دھوپ سینک رہی تھیں. ایک نے بتایا کے وہ  پچھلے سال بھی مصرآی  تھی  اور صحراۓ سینا کے علاقے میں گھومتی رہی تھی.اسکا کہنا تھا کے دھا ب نامی قصبے میں مسلسل شیلنگ ہوتی رہتی تھی.  صحراۓ سینا اسرائیلی باشندوں کے لئے١٥ روز کے لئے  ویزا فری ہے یعنی مصر کا حصّہ ہوتے ہوے بھی انھیں اسکا ویزا لینے کی ضروررت نہیں . یہ س ١٩٧٩ کی مصر اسرائیل معاہدےکیمپ ڈیوڈ ایکارڈ کی ایک شرط تھی جسکے مطابق اسرائیل نے صحراۓ سینا مصر کو واپس کر دیا تھا. شرم الشیخ کا ساحلی شہر جو صحرا سینا کی تکون کی نوک پر آباد ہے اسی  اسرائیلی قبضے کی یادگار ہے اور دراصل یہودیوں ہی نے اسے ریز ورٹ کی شکل دی جہاں آج دنیا بھر کے سربراہان حکومت کونفرنسین منعقد کرتے ہیں اور اپنا فارغ وقت اینجوے کرتے ہیں. 

اسلام کی طرح یہودی اور عیسائ  مذہب میں صحراۓ سینا کو مذہبی اہمیت حاصل ہے. یہود کواس لئے کے وہ فرعو ن کی غلامی سے آزادی کے بعد ٤٠ سال یہاں گھومتے رہی اور عیسائیت میں اس لئے کے عیسائ مذہب کی قدیم ترین خانقاہیں یہان وا قع  ہیں جہاں رومیوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر عیسا یی راہبوں نے ڈیرہ ڈالا. حضرت موسیٰ  کو نبوّت بھی کہتے ہیں یہیں ملی مگر یہودیوں کی ایک نئی  تحقیق کے مطابق وہ پہاڑ جہاں حضرت  موسیٰ کو خدا سے ہم کلام ہونے کا موقع ملا  داراصل مدین یعنی موجودہ شمالی سعودی عرب میں ہے. قرآن اور دوسرے آسمانی صحیفوں میں واقعہ تو مذکور ہے مگر اصل تاریخ اور جگہ کا  تعین مشکل ہے. 

   

Sunday, September 18, 2016

Breaking: Explosion in Newyork injured 29

Summary

At least 29 people are injured in an explosion in the Chelsea district of New York City around 21:00 (01:00 GMT on Sunday)Mayor Bill de Blasio says it was an "intentional" act but there is no terror linkSecond device found a few blocks away and has been removedNone of the injuries is life-threatening but one is said to be serious.

Read the full story at BBC site.

“I don’t like the movies that I made with Steven Spielberg” Shia LaBeouf

Shortly after his appearance in Steven Spielberg’s Indiana Jones and the Kingdom of the Crystal Skull (2008), the leading actor Shia LaBeouf  felt he “dropped the ball on Jones’ Legacy.” Since then LaBeouf is trying not to drop the ball again and he appears to be pretty successful. Yet he often courts controversies.

In a recent interview for Variety magazine, LaBeouf publicly criticized Academy Award Winner Director Steven Spielberg saying,” I don’t like the movies that I made with Spielberg..The only movie that I liked that we made together was ‘Transformers’  One.”

Emmy award winner, actor and director insisted that the reality of working with the prolific director was much different than he had imagined. “Spielberg’s sets are very different. You get there, and you realize you’re not meeting the Spielberg you dream of.. You’re meeting a different Spielberg, who is in a different stage in his career. He’s less a director than he is a f—ing company,” he blasted in fury.

LaBeouf ostensibly forgot altogether in the limelight of success that his performance in the Kingdom of the Crystal Skull made the Hollywood pundits wonder what Spielberg saw in the young actor that inspired him to cast LaBeouf?

He worked with the famous filmmaker on several films in different capacities, including  DisturbiaTransformers, and  Eagle Eye, as well as  Indiana Jones and the Kingdom of the Crystal Skull.

LaBeouf also claimed that Spielberg told him not to read his own press, whether itwas good or bad but for LaBeouf, it means, “to not take part in society.” 

It should be noted that in a prolific career spanning four decades –one more than LaBouf’s age– Spielberg has addressed many themes and genres from adventure to science fiction and from Holocaust to the transatlantic slave trade. He is known for his long-standing associations in the film industry. Time magazine listed him as one of the 100 Most Important People of the Century.

Spielberg simply declined to comment on the 30-year-old’s bragging. He must be asking himself what exactly did he see in Lebeouf 8 years back?

Media Bites Editorial – Tazeen Hasan

Saturday, December 27, 2014

Saturday, January 19, 2013

Sunehri Ullu Ka Sheher by Mustansar Hussain Tarar



Just Read  above book about author's Indian visit.

Latest Books!!



I have just finished "Hindustan hamarah" by Qamar Ali Abbsi. A touching travelogue taking me through various towns of India.
I also read Safar Shumal ke by Mustansar Hussain Tarar about his family travels of Swat and Khunjrab pass.
Last week I browsed "Ghar-e-Hira men aik raat" by Mustansar Hussain Tarar.

Enjoyed all of them as I really love travel and travelogues.