Tuesday, September 1, 2026

بحیرہ ٕ احمر سے بحیرہٕ روم کے ساحلوں تک- تازہ ہرعہد میں ہے قصۂ فرعون و کلیم (٦)

 تازہ ہرعہد میں ہے قصۂ فرعون و کلیم (٦)

ٹونی بلیئر اور نکولس سارکوزی ہمارے تعاقب میں

سیاحوں میں اقصر (Luxor) کس قدر مقبول ہے، اس کا اندازہ آپ اس امر سے لگائیں کہ سن 2007ء میں ہمارے پیچھے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر صاحب نے وزارتِ عظمیٰ سے فراغت کے بعد اپنی فیملی کے ساتھ یہاں کا رخ کیا تو پتہ چلا فرانسیسی صدر نکولس سارکوزی بھی اپنی بیگم سے طلاق حاصل کرنے کے بعد اپنی گرل فرینڈ کے ہمراہ اقصر کے اس گندے سے شہر میں مفلوک الحال مصریوں کے درمیان اپنی آزادی کا جشن منا رہے ہیں۔ ان کی اس وقت کی گرل فرینڈ ایک جوان سال ماڈل تھیں۔ یہ لوگ یقیناً ہم سے ملاقات کے خواہش مند ہوں گے، لیکن ہماری خوش نصیبی یا بد نصیبی کہ ہم قاہرہ کے لیے نکل چکے تھے، اس لیے یہ دونوں اس سعادت سے محروم رہ گئے۔

آسمانی صحیفوں کی بنیاد پر تاریخی واقعات کی سند حاصل کرنا مشکل امر ہے، لیکن جیسا کہ پہلے ذکر آیا، بعض مورخین کے نزدیک یہی وہ جگہ ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے فرعون کو توحید کی دعوت دی تھی۔ مولانا مودودیؒ نے ’تفہیم القرآن‘ میں اسے قرینِ قیاس قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم۔

 کئی مہینوں کی تپسیا کے بعد آج ہم بالاخر الاقصر میں موجود تھے- قاہرہ سے کوئی 650 کلومیٹر جنوب میں، فراعنہ کے دورِ وسطیٰ اور انتہائی عروج کا یہ مرکزِ حکومت، دنیا کا سب سے بڑا اوپن ایئر میوزیم کہلاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آج بھی دنیا کے ایک تہائی قدیم نوادرات یہاں پائے جاتے ہیں۔

دریائے نیل کے دونوں کناروں پر آباد اس شہر کو سیاحوں کی قدیم ترین آماجگاہ بھی کہا جاتا ہے۔ مشہور یونانی داستان گو ہومر اس کی شان و شوکت اور دولت کے تذکرے میں رطب اللسان ہے۔ یونانی مورخ ہیروڈوٹس نے قدیم تھیبس (یعنی اقصر) کا بھی دورہ کیا اور ہیلیوپولیس (یعنی موجودہ قاہرہ) کا بھی۔ عہدِ فراعنہ کے بعد یونانی اور رومی شہنشاہوں نے یہاں کے مندروں میں حاضری بھی دی اور کہیں کہیں تعمیرات میں اپنا حصہ بھی ڈالا۔ بلاشبہ یہاں قاہرہ کے مقابلے میں فراعنہِ مصر کی یادگاریں بہت بڑی اور بہتر حالت میں موجود ہیں، اور ہماری نظر میں زیادہ پرشکوہ، نفیس اور زیادہ تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔

شہر کے بیچوں بیچ آسمان کو چھوتے ہوئے ستونوں سے مزین اقصر کا مندر اور شہر کے مرکز سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر کرنک (Karnak) کا مندر ہے، جو مصر میں اہرام کے بعد دوسرا اہم سیاحتی مقام مانا جاتا ہے۔

دریا کے مغربی کنارے پر وادی الملوک ہے جہاں دورِ وسطیٰ کے فراعنہ نے اپنے زیرِ زمین مقبرے تعمیر کروائے۔ وادی الملوک (Valley of the Kings) اور وادی ملکات (Valley of the Queens) کے زیرِ زمین مقبرے آپ ہالی ووڈ کی فلموں میں بھی دیکھتے رہے ہیں، مثلاً ’دی ممی‘ اور ’دی ممی ریٹرنز‘ میں۔

اس کے علاوہ مصر پر بیس سال حکومت کرنے والی خاتون ہٹشیپسٹ (Hatshepsut) کا انتہائی دلکش اور منفرد تعمیراتی انداز کا مندر اور کچھ دوسرے قابلِ دید مندر بھی مغربی کنارے پر موجود ہیں۔ دریا کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے پر جانے کے لیے کشتیاں دستیاب ہیں۔

یہ بات واضح رہے کہ مصر کی تہذیب 3000 قبلِ مسیح سے 500 قبلِ مسیح تک مصری فراعنہ ہی کے زیرِ نگین پھلتی پھولتی رہی۔ مورخین کے مطابق،  اس میں مختصر درمیانی وقفہ ہکسوس (Hyksos) قوم کی حکمرانی کا تھا، جن کا تذکرہ مولانا مودودیؒ نے سورہ یوسف کی تفسیر میں بھی کیا ہے۔ یاد رہے کہ دورِ یوسف کے مصری حکمرانوں کو قرآن ’فرعون‘ کا نہیں بلکہ ’بادشاہ‘ (ملک) کا نام دیتا ہے۔

مکرر ارشاد ہے کہ صحیفوں میں مذکور قصوں اور تاریخ کا افیئر ذرا نازک ہے؛ ایک کا تعلق بظاہرغیب پر یقین سے ہے اور دوسرا تاریخی اور اثار قدیمہ سے سے حاصل شواہد پر —اگرچہ سچ یہ بھی ہے کہ تاریخ سے حاصل شدہ معلومات کوعوام کے سامنے لانے سے قبل اس میں بھی کسی حد تک قیاس آرائی اور داستان گوئی کا تڑکا لگایا جاتا ہے، خصوصاً جب اسے سلور اسکرین پر سامنے لایا جائے- دیکھنے والے کو بھی معلوم ہوتا سب سچ نہیں پھر بھی سارا بیانیہ سچ کی طرح ذہنوں میں غیر محسوس طور پر محفوظ ہو جاتا ہے-       

 پڑھنے والوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ آگے کا سفر شروع کرنے سے پہلے ہمارے متعلق ایک تاریخی حقیقت ذہن نشین کر لیں، ورنہ کسی بھی قسم کی ذہنی گمراہی کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے!  وہ یہ کہ ہم مسلمان پیدا ہوے تھے اور الحمد للہ آج بھی خود کو مسلمان ہی سمجھتے ہیں- اب اس اصلی تے ودی اسلامی شناخت کے ساتھ بچپن سے لے کر پچپن کی عمر تک جو داستانیں عقیدے کی طرح دل و دماغ کے ساتھ چپکی ہیں، ان سے کہیں بھی فرار نہیں۔ چاہے ہم سیاحت کریں یا ہالی ووڈ دیکھیں، آسمانی صحیفے خود بخود سامنے آکھڑے ہوتے ہیں۔ روشن خیال دوست اگراسے ’ترقی پسندی‘ پر ڈاکہ سمجھیں تو ان کی خدمت میں بس وہی ’حکیمی نسخہ‘ پیشِ خدمت ہے کہ: ’دوا نگلتے وقت بندر کا سوچنا بالکل منع ہے!‘ سچ تو یہ ہے کہ ہم مسلمان اپنے عقیدے کے معاملے میں کہیں زیادہ مجبور ثابت ہوتے ہیں۔ ہماری بات کا یقین نہیں تواردو شاعری اٹھا کر دیکھ لیں، آپکو شراب و شباب کے ساتھ ساتھ موسیٰ، یوسف اور زلیخا کا ذکر بھی ملے گا اور جنت دوزخ کا بھی- فیض تو ہمارے اس نظرئیے سے اتنا متاثر تھے کہ انقلاب کا نقشہ سورۂ القارعہ سے مستعار لے ڈالا- ویسے آپس کی بات ہے ہم بھی آپکی طرح تاریخ اورصحیفوں کے اس آپسی افئیر سے بہت لطف لیتے ہیں-

ماہر مصریات کی تحقیق کہتی ہے کہ فراعنہ کے تین ساڑھے تین ہزار سال کے اقتدار میں وقفہ آیا جب زیریں مصر (قاہرہ کے گرد) ہکسوس سلطنت حکمران رہی- اور قران متعدد مقامات پر یوسف دور کے حکمرانوں کو فرعون نہیں بادشاہ (ملک) کہہ کر مخاطب کرتا ہے جبکہ موسیٰ دور کے حکمرانوں کو مسلسل فرعون کہتا ہے- جغرافیہ کہتا ہے کہ ہکسوس سلطنت کا صدر مقام فلسطین اور مصر کی سرحد (آج کے رفاح بارڈر سے زیادہ قریب تھا)-

ملاحضہ ہو-

سورۃ یوسف (آیت 43):

  • وَقَالَ الْمَلِكُ إِنِّي أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ... (ترجمہ: اور بادشاہ نے کہا: میں نے خواب میں سات موٹی گائیں دیکھیں۔..)

  • سورۃ یوسف (آیت 50):

    وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ... (ترجمہ: اور بادشاہ نے کہا: اسے میرے پاس لے کر آؤ...)

  • سورۃ یوسف (آیت 54):

    وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُونِي بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِي... (ترجمہ: اور بادشاہ نے کہا: اسے میرے پاس لاؤ، میں اسے اپنے لیے خاص کر لوں...)

  • سورۃ یوسف (آیت 72):

    قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ... (ترجمہ: انہوں نے کہا: ہم بادشاہ کا پیمانہ گم پاتے ہیں...)

جبکہ موسیٰؑ کے دور کے حکمرانوں کے لیے قرآن ’فرعون‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے:

  • سورۃ طٰہٰ (آیت 24):

    اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ (ترجمہ: فرعون کے پاس جاؤ، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے۔)

  • سورۃ النازعات (آيات 17-18):

    اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ ۝ فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰ أَن تَزَكَّىٰ (ترجمہ: فرعون کے پاس جاؤ کہ وہ سرکش ہو گیا ہے، اور اس سے کہو: کیا تو چاہتا ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے؟)

  • سورۃ الأعراف (آیت 104):

    وَقَالَ مُوسَىٰ يَا فِرْعَوْنُ إِنِّي رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ (ترجمہ: اور موسیٰ نے کہا: اے فرعون! میں رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں۔)

  • سورۃ الزخرف (آیت 46):

    وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَقَالَ إِنِّي رَسُولُ رَبِّ الْعَالَمِينَ (ترجمہ: اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس بھیجا، تو انہوں نے کہا: میں رب العالمین کا رسول ہوں۔)

  • سورۃ القصص (آیت 38):

    وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرِي... (ترجمہ: اور فرعون نے کہا: اے دربار والو! میں اپنے علاوہ تمہارے کسی معبود کو نہیں جانتا...)

مندروں کے ستونوں اور دیواروں پر موجود قدیم مصری رسم الخط ہائروگلیفس میں لکھی تاریخ سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ تین ہزار سال فراعنہ کا اقتدار رہا لیکن درمیان میں وقفہ آیا۔

ان تین ہزار سالوں میں فراعنہ کے لاتعداد خاندان گزرے جنہیں ماہرینِ آثارِ قدیمہ یا ماہرینِ مصریات (Egyptologists) نے تین ادوار میں تقسیم کیا ہے: عہدِ قدیم، عہدِ وسطیٰ، اور عہدِ جدید۔

یہ بھی یاد رہے کہ اقصر فراعنہ کے وسطی اور جدید دور کی تعمیرات سے مزین ہے، جبکہ اہرامِ مصر ابتدائی زمانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ عہدِ قدیم کے فراعنہ نے قاہرہ کے نواح میں آسمان کو چھوتے ہوئے پہاڑوں کی شکل کے اہرام اپنی بعد از مرگ رہائش گاہوں کے طور پر تعمیر کروائے- ہم قاہرہ پہنچ کر ان کے بارے میں تفصیل سے بتائیں گے۔

لیکن غالباً کچھ صدیوں کے تجربات کے بعد خدائی کے دعویدار فراعنہ نے محسوس کیا کہ ان کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد وہ خود اور ان کے خزانے ان اہراموں میں زیادہ محفوظ نہیں ہیں، تو انہوں نے موجودہ اقصر شہر کے مغربی کنارے پر وادی الملوک میں پہاڑ کاٹ کر زیرِ زمین مقابر بنوانے شروع کیے جو عوام الناس کی نظروں سے پوشیدہ رکھے جاتے تھے۔ صرف مذہبی طبقات کی اس جگہ تک رسائی تھی، لیکن اس کے باوجود توتن خامن نامی فرعون کے مقبرے کے علاوہ باقی تقریباً تمام مقابر کو قدیم زمانوں ہی میں خزانے کی تلاش میں لوٹنے والوں نے ڈھونڈ نکالا، اور یہ بزعمِ خود خدا کہلانے والے اپنے خزانوں کی حفاظت کر سکے نہ اپنی حنوط شدہ ممیوں کی—جو بعد ازاں گورروں نے دنیا بھر کے میوزیمز میں عبرت کا نشان بنا کر رکھوا دیں۔

مقابر کے ساتھ ساتھ ہر فرعون جو خدائی کا دعویدار ہوتا، اپنے بعد از مرگ عبادت کے لیے کم از کم ایک عظیم الشان مندر بھی تعمیر کرواتا۔ مندروں کے بنیادی تعمیراتی انداز تقریباً ایک جیسے تھے، مگر کچھ مندر دوسروں سے بہتر حالت میں ہیں۔ ہر مندر اور مقبرے کی دید سے پیشتر آپ کو اپنی جیب خالی کرنی پڑتی ہے اور بہت زیادہ کرنی پڑتی ہے۔

کرنک کا مندر

اقصر میں ہمارا پہلا سیاحتی ٹھکانہ کرنک کا مندر تھا، جسے دیکھنے کے لیے ہم سب سے زیادہ بے تاب تھے۔ گلی سے نکل کر اقصر کے مندر سے گزرتے ہوئے تھوڑے ہی فاصلے سے ہم نے بس پکڑی، جس نے کوئی تین کلومیٹر دور ہمیں کرنک کے مندر پر اتار دیا۔

کرنک کو الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ یہ کوئی ایک مندر نہیں بلکہ سو ایکڑ پر پھیلا ہوا مندروں کا ایک کمپلیکس ہے، جس کی تعمیر 2000 قبلِ مسیح سے لے کر یونانی ادوار تک (یعنی 400 سال بعدِ مسیح تک) جاری رہی۔ اس دوران تقریباً فراعنہ کے تیس خانوادوں نے اس کی تعمیر میں حصہ لیا، اس طرح دوسرے مندروں کے برعکس یہ کسی ایک فرعون سے منسوب نہیں ہے۔

کرنک کی سب سے مرعوب کن اور دلچسپ تعمیر اس کا ہائپواسٹائل ہال (Hypostyle Hall) ہے، جس کے دیو قامت ستون قدیم مصری زبان—جو فی الوقت ہائروگلیفس (Hieroglyphs) کہلاتی ہے—کی زبانی ہزاروں سال کی داستان سنا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ 66 سال حکومت کرنے والے مصر کے سب سے طاقتور فرعون رامسس دوم کے آسمان کو چھوتا ہوا مجسمہ، اس کی سو بیویوں میں سے سب سے پسندیدہ بیوی نیفرتاری (Nefertari) کا قدرے چھوٹا مجسمہ، مندر کے ایک حصے سے دوسرے میں داخلی دروازے جنہیں انگریزی میں Pylon کہا جاتا ہے، اور خاتون فرعون ہٹشیپسٹ اور اس کے سوتیلے بھائی و شوہر تھتموسس سوم (Thutmose III) کے دیو ہیکل مجسمے موجود ہیں۔

غرض اس صنم خانے میں بتوں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک مجسمہ مغرب کے عجائب گھروں کے لیے کروڑوں ڈالر کی مالیت رکھتا ہے۔ اور یہ سب اس کے بعد ہے کہ جو کچھ یہاں سے منتقل کیا جا سکتا تھا، وہ تو انیسویں صدی کے اوائل سے لے کر بیسویں صدی میں اسرائیل کے قیام تک مغرب کے عجائب گھروں میں منتقل کیا جاتا رہا۔جیسا ہم نے بتایا کہ القصر جہاں ہم اس وقت موجود ہیں اسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا اوپن ایئرمیوزیم ہے اور یہاں آج بھی دنیا کے ایک تہائی اثار قدیمہ موجود ہیں- اسکے بعد قاہرہ میں موجود مصر کا نیشنل میوزیم ہے جہاں ہزاروں نوادرات کو شو کیس کیا گیا ہے لیکن کوئی لاکھ کے قریب فراعنہ کے نوادرات ہمارے وزٹ کے وقت قاہرہ میوزیم کے تہہ خانے میں موجود تھے-    

اسکے علاوہ برٹش میوزیم، لندن اور نیویارک کے میٹروپولٹن میوزیم آف آرٹ میں فی الوقت قاہرہ کو چھوڑ کر مصری آثارِ قدیمہ کا سب سے بڑا کلیکشن موجود ہے۔ نسبتاً چھوٹا کلیکشن ہارورڈ میوزیم آف آرٹ اور ہارورڈ سیمیٹک میوزیم میں موجود ہے—یہ سطریں تحریر کرتے ہوئے ہم ان تمام میوزیمز کا متعدد مرتبہ وزٹ کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اٹلی، جرمنی، آسٹریا، اور امریکی ریاست کیلیفورنیا اور شکاگو میں بھی مصری نوادرات بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ایک وقت تھا کہ مصری نوادرات سے دلچسپی کے لیے Egyptomania یعنی مصر سے دیوانگی کی حد تک شغف کی اصطلاح وجود میں آئی۔ آج بھی مغربی دنیا کے بہت سے میوزیمز میں مصری نوادرات کی عارضی نمائشیں بھی لگتی رہتی ہیں۔

چند سال پیشتر اوٹاوا شہر میں واقع کینیڈا کے نیشنل میوزیم میں ایسی ہی ایک عارضی نمائش 

Queens of Egypt

دیکھنے کا اتفاق ہوا جہاں ایک خدا کی عبادت کرنے والے فرعون اخناتن کی بیوی کے سر کا مجسمہ جو فی الوقت برلن ہیڈ کہلاتا ہے  بھی موجود تھا—کیونکہ مستقل طور پر یہ برلن کے ایک میوزیم میں موجود ہے۔ اخناتن کی دلچسپ داستان ہم آگے بیان کریں گے، اگر آپ تاریخ کے تذکرے سے زیادہ بور نہ ہوں تو۔ 

اس عارضی نمائش میں تمام نوادرات اصلی نہیں تھے لیں پھر بھی ہمیں یہ بہت دلچسپ لگی جس میں فراعنہ کو نہیں بلکہ انکی ملکاؤں کو موضوع بنایا گیا تھا- 

مغربی میوزیمز کے اس کلیکشن میں فراعنہ کی ممیاں، یادگاری ستون جنہیں انگریزی میں Obelisk کہا جاتا ہے، کے علاوہ روزٹا اسٹون (Rosetta Stone) نامی وہ پتھر کی سل بھی موجود ہے جس کے ذریعے فراعنہ کی زبان (ہائروگلیفس) کو سمجھا گیا۔ اب مصر میں وہ بھاری بھرکم یادگاریں بچی ہیں جنہیں اپنی جگہ سے ہٹانا تقریباً ناممکن تھا۔ اس کے باوجود نوادرات کا ایک خزانہ ہے جسے دیکھنے کے لیے عمرِ خضر چاہیے۔ آگے چل کر ہم اس لوٹ مار کی کچھ تفصیل سنائیں گے جس کے ذریعے یہ تاریخی اثاثہ مغربی عجائب گھروں میں منتقل ہوا۔

مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے خدشات کے برعکس بچوں نے اور حسن نے بھی بہت دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ بچے مجسموں سے لپٹ کر اور ان سے ٹیک لگا کر تصویریں بنواتے رہے  اور باقی وقت انکے درمیان کھیلتے رہے - دھوپ بڑھتی جا رہی تھی- جو گرم کپڑے ہم حفظ ما تقدم کے طور پر پہنا کر لائے تھے بچے انھیں ایک ایک کرکے اتارتے جا رہے تھے جنھیں ہم ساتھ لائے ہینڈ کیری کے حوالے کرتے جا رہے تھے-  الحمدلللہ انھیں ہمیں تنگ کرنے کی فرصت ملی نہ ہمیں انھیں ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی- ہم اس شہر بتاں میں اپنا پینا سونک کا وڈیو کیم لئے خراب ہوتے رہے-   

ہائپواسٹائل ہال اور حیرت انگیز تعمیرات

کرنک کے داخلی راستے پر ہماری ملاقات مینڈھوں (Rams/Sphinxes) کے لاتعداد مجسموں سے ہوئی، جن کی ٹھوڑی اور قدموں کے درمیان انسانی مجسمے نہ جانے کس چیز کی نشاندہی کررہے ہیں۔ داخلے سے پیشتر ہی  رامسس دوم کا 45 فٹ اونچا مجسمہ نظرآیا۔ چونکہ انہوں نے ٦٦ سال تک کرسی نہیں چھوڑی اس لئے انکے مجسمے اور اس سے وابستہ نوادرات آپ کو قاہرہ سے سوڈان کی سرحد تک ہر جگہ نظر آتے ہیں۔

ہم تصویروں میں کارنک کے مندر کو بارہا دیکھ چکے تھے، لیکن پھر بھی اس کے مرکزی ہال میں قدم رکھتے ہی دل و دماغ پرمرعوبیت چھا گئی اور یوں لگا جیسے وقت اچانک تھم گیا ہو۔ ہمارے گرد ایستادہ 134 دیو ہیکل پتھر کے ستون، جو سنگی جنگل کے تناور درختوں کی طرح آسمان کی جانب سر اٹھائے کھڑے تھے، اپنے بے پناہ قد و قامت اور فرعونی عہد کی شاہکار تراش خراش سے ہم پر ایک ہیبت ناک اور سحر انگیز رعب طاری کر رہے تھے۔ ان پر کندہ پراسرار نقوش اور ہزاروں سال پرانے دھندلے رنگوں کو دیکھ کر ہم نے محسوس کیا گویا فرعونوں کی روحیں اب بھی ان پتھروں کے درمیان پرواز کر رہی ہیں۔ تصویروں میں ان عجائبات کو دیکھنا اور بات ہے لیکن جب ہزاروں سال پرانے نیل کی سنہری دھوپ ان اونچے ستونوں کے درمیان سے چھن کر ہمارے قدموں پر پڑی، تو ہم تاریخ کے اس عظیم الشان اور پراسرار معبد کے وسط میں خود کو بالکل ہیچ اور بونا محسوس کرنے لگے!

جیسا کہ ہم نے بتایا کہ کرْنک کی سب سے دلچسپ تعمیر ہمیں ’ہائپو اسٹائل ہال‘ ہی محسوس ہوئی۔ قدیم مصری اپنی زبان میں اسے ’شیپیت حس‘ کہتے تھے، جس کا مطلب "ستونوں کا بڑا ہال" تھا۔ بعد میں جب قدیم یونانی سیاح اور مورخین مصر آئے اور انہوں نے کرنک میں ستونوں کا یہ عظیم الشان ہال دیکھا، تو انہوں نے اپنے فنِ تعمیر کی اصطلاح کے مطابق اسے ’ہائپو اسٹائل‘ کا نام دیا—یعنی ایک ایسا عمارتی ڈھانچہ جو ستونوں کے سہارے قائم ہو۔ یہی نام آگے چل کر عالمی تاریخ اور فنِ تعمیر میں مستقل اصطلاح بن گیا۔

اس ہال کی چھت تو اب دوشِ ہوا پر تحلیل ہو کر تقریباً معدوم ہو چکی ہے، لیکن 134 دیو ہیکل ستون (جی ہاں! ایک سو چونتیس ستون) آج بھی عہدِ گزشتہ کی عظمت کا قصہ سنا رہے ہیں۔ ان کے سامنے انسان کی حیثیت کسی حشرۃ الارض سے زیادہ نہیں لگتی، یا یوں گمان ہوتا ہے جیسے ’گلیورز ٹریولز‘ کے صفحات سے بونے نکل کر کرنک کے اس صحن میں اپنے مٹھی بھر وجود کے ساتھ ٹہل رہے ہوں۔

چھت معدوم ہو چکی ہے لیکن ان ستونوں کو آپس میں جوڑنے والے کچھ بیم بھی بہت بہتر حالت میں موجود ہیں۔ ان میں سے 12 ستون 70 فٹ سے زیادہ اونچے ہیں اور باقی تقریباً 48 فٹ۔ 

ہر ستون کے صرف زیریں حصے کا قد ایک است آدمی کے قد کے برابر ہے اور قطر تین میٹر ہے، یعنی درمیانے سائز کے ایک کمرے کے برابر! ایک ستون کے صرف سر یعنی اوپری حصے کا وزن 70 ٹن بتایا جاتا ہے۔

یہ سوچ کر عقل حیران رہ جاتی ہے کہ انہیں کس طرح پہاڑوں سے کاٹا گیا ہوگا اور کس طرح انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر کے نصب کیا گیا ہوگا؟ غالباً دریائے نیل کے ذریعے انہیں منتقل کیا گیا ہوگا، مگر پھر بھی آج سے ہزاروں سال پہلے انہیں ایستادہ کرنے کے لیے جس لاجسٹک نیٹ ورک کو استعمال کیا گیا ہوگا اس کا تصور ہی محال ہے۔

مزيد برآں، یہ شاہکار جس اعلیٰ درجے کی سائنسی بصیرت اور ریاضیاتی مہارت کا تقاضا کرتا ہے، وہ قدیم مصریوں کے سائنس اور ٹیکنالوجی پر غیر معمولی عبور کا بین ثبوت ہے۔  اس سے زیادہ حسین، نفیس اور حیرت انگیز چیز جو ہمیں محسوس ہوئی، وہ ان ستونوں پر ہائروگلیفس (قدیم مصری حروفِ تہجی جو تصویروں کی شکل میں ہوتے ہیں) کے ذریعے مصر کی تاریخ، فراعنہ کے حالاتِ زندگی، ان کے ادوار کی فتوحات اور مراسمِ عبودیت نقش کیے جانا ہے۔ تعمیری پتھر اتنا ہے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود سب کچھ آج بھی بہت بہتر حالت میں موجود ہے۔

یہ بھی یاد رہی کہ احرام میں استعمال ہونے والے پتھر کا اوسط وزن ڈھائی ٹن جبکہ کارنک میں استعمال ہونے والے ستوں کا اوسط وزن دس سے بارہ ٹن ہے- اس حوالے سے بھی ہمیں کارنک احرام کے مقابلے میں زیادہ متاثر کن عجوبہ محسوس ہوا- اسکے علاوہ احرام میں استعمال ہونے والا پتھر جتنا بھی بھاری ہے مگر محض پتھر ہے جبکہ کارنک اور الاقصر کے مندروں اور مقابر کی دیواروں اور ستونوں انتہائی نفیس رسم الخت میں قدیم مصر کی پوری تاریخ درج ہے- جو انکے حسن کو چار چند لگانے کے علاوہ انکی تاریخی اهمیت کو بھی ہزار گنا بڑھا دیتی ہے-  

انگریزوں اور فرانسیسیوں نے انیسویں صدی کے اوائل سے ہی انہیں ڈرائنگز اور بعد ازاں فوٹوگرافس کی شکل میں محفوظ کرنا شروع کر دیا تھا اور پوری دنیا میں اس کی تشہیر کی۔ یورپی ماہرین نے تمام مصر کے آثارِ قدیمہ پر اتنی تحقیق کی کہ مصریات (Egyptology) کو ایک سائنس کی شکل دے کر باقاعدہ یونیورسٹی لیول کے ایک شعبہِ تعلیم میں بدل دیا۔

آپ میں سے کسی کو Indiana Jones and the Raiders of the Lost Ark والا اورینٹل انسٹیٹیوٹ شکاگو یاد ہے جہاں سے ڈاکٹر جونز نے آرکیالوجی یعنی آثارِ قدیمہ کی تعلیم حاصل کی تھی؟ وہ امریکا میں مشرقِ وسطیٰ اور خصوصاً مصر کے آثارِ قدیمہ کی تعلیم و تحقیق کے لیے قائم ہونے والا پہلا ادارہ تھا۔ لیکن جس امر کو جرمن دشمنی میں ہم سے چھپایا جاتا ہے وہ یہ کہ اس سے بہت پہلے جرمنی میں ماہرینِ مصریات تیار ہو رہی تھے۔

2015ء میں ہارورڈ سیمیٹک میوزیم (Harvard Semitic Museum) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر گرین نے—جو خود بھی اورینٹل انسٹیٹیوٹ کے تربیت یافتہ تھے—کلاس اسائنمنٹ کے لیے ایک انٹرویو کے دوران ہمیں بتایا کہ اس ادارے کے زیادہ تر بانی ممبرز نے جرمنی ہی سے تعلیم حاصل کی تھی۔ جرمنوں کی آثارِ قدیمہ میں مہارت کا عموماً تذکرہ نہیں کیا جاتا اور فلموں میں انہیں ولن کے طور پر ہی پیش کیا جاتا ہے۔ مذکورہ فلم میں بھی انہیں ولن ہی دکھایا گیا ہے۔ کیوں اس پر آگے کہیں تبصرہ کریں گے-

دوبارہ کرنک کی طرف چلتے ہیں۔ یہ ہائپو اسٹائل ہال کرنک کے دوسرے اور تیسرے عظیم الشان دروازے یعنی ’پائلون‘ (Pylon) کے درمیان واقع ہے۔ قدماء کے ہاں ’پائلون‘ سے مراد معبد کا وہ عظیم الشان اور دیو ہیکل مدخل یا سنگین درگاہ ہوتی تھی جو برجوں اور ان کے درمیان بنے مرکزی گیٹ پر مشتمل ہوتی تھی۔ یہ دروازے مندر کے مختلف حصوں کو الگ کرنے اور قلعے کے فصیلی پھاٹکوں کا کام دیتے تھے۔

یہ ہال رامسس دوم کے والد سیٹی اول (Seti I) نے تعمیر کروانا شروع کیا تھا، جسے بعد میں اس کے بیٹے رامسس دوم نے مکمل کروایا۔ یاد رہے کہ لکڑی یا دھات سے بنے اصل دروازے تو وقت کی دھول میں کہیں گم ہو چکے ہیں، اب صرف پتھر کی دیو ہیکل چوکھٹ باقی ہے۔

ہالی ووڈ میں بائبل کے اس باب پر بے شمار فلمیں بنی ہیں، جن میں The Ten Commandments غالباً سب سے زیادہ پسند کی جانے والی فلم ہے۔2014ء میں بننے والی ہالی ووڈ کی فلم Exodus: Gods and Kings میں سیٹی اول کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش کرنے والا، جبکہ رامسس دوم کو حضرت موسیٰؑ کی دعوت کو مسترد کرنے والا فرعون دکھایا گیا ہے۔  Exodus (2014ء) پر بائبل کے پلاٹ سے انحراف کے حوالے سے خاصی تنقید ہوئی۔ ہم نے بھی 2015ء میں اپنے ایک اسائنمنٹ کے لیے اسی فلم کو چنا اور فلم کی کہانی و ڈائریکشن میں موجود تاریخی غلطیوں اور آسمانی صحیفوں سے اس کے انحراف کو اپنا ہدف بنایا۔ تاریخ پر بننے والی فلموں پر ہماری تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ فلم Biblical Epic ہونے کا دعویٰ کرتی ہے مگر سیکولرازم کا پرچار کرتی نظر آتی ہے۔

کرنک کے اس تفصیلی دورے کے دوران ہم تصور ہی تصور میں فرعون کے دربار میں جادوگروں سے موسیٰ و ہارون علیہما السلام کا مقابلہ—جو قرآن میں بہت تفصیل سے بار بار آیا ہے—دیکھتے رہے۔ سچ ہے، ہمارے نزدیک یہ فراعنہ کی سب سے شاندار تعمیر ہے جو اہرام سے بھی مرعوب کن ہے، اور ہمارا ذاتی قیاس یہی کہتا ہے کہ قرآن کے بیان کے مطابق کرنک ہی وہ جگہ ہوگی جہاں جادوگروں کا تماشا دیکھنے سارے شہر کو اکٹھا کیا گیا ہوگا۔

کرنک کی تعمیر بارھویں خانوادے کے دور میں سن 2000 قبلِ مسیح میں شروع ہوئی۔ یہودی جنتریوں کے مطابق یہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دور بتایا جاتا ہے۔ یہ تعمیر فراعنہ کے تقریباً تیسویں خانوادے کے دور تک جاری رہی۔

فراعنہ کے بعد کوئی چھٹی صدی قبلِ مسیح میں مصر پر مشرقِ وسطیٰ کے دوسرے حصوں کی طرح فارس (ایران) کی حکومت قائم ہو گئی۔ اس کے کچھ عرصے بعد مصریوں نے دوبارہ اقتدار حاصل کیا، لیکن چوتھی صدی قبلِ مسیح میں سکندرِ اعظم کی کمانڈ میں یونانی مصر سمیت مشرقِ وسطیٰ سے لے کر موجودہ پاکستان تک کے خطوں پر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ کرنک کی دیواروں پر یونانی حکمرانوں کے علاوہ رومی حکمرانوں نے بھی اپنے نقش و نگار کھدوائے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے تذکرہ کیا، مارک انتھونی کے قتل کے بعد مصر رومی سلطنت میں شامل ہو گیا۔

سن 330ء میں رومی حکمران قسطنطین (Constantine) نے عیسائیت قبول کر لی تو اس نے تمام سلطنت میں (جو روم، اٹلی سے لے کر موجودہ سعودی عرب کے کچھ حصوں تک پھیلی ہوئی تھی) ایک سے زیادہ خداؤں کی (Pagan) عبادت گاہوں پر پابندی لگوا دی اور مشرک مندروں کو کلیسا میں تبدیل کر دیا، جس کے سبب یہاں دیواروں پر عیسائی راہبوں اور سینٹس (Saints) کے  نقوش   بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

مسلمانوں نے پچھلے چودہ سو سالوں میں بالعموم ان تعمیرات کو نہیں چھیڑا—جیسے افغانستان اور سوات میں طالبان کی آمد سے پیشتر بدھ مت کے آثارِ قدیمہ عمومی طور پر محفوظ رہے تھے۔ یاد رہے کہ ان چودہ سو سالوں میں خلافتِ راشدہ کا دور بھی شامل ہے جب مصر پہلی دفعہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا—اس وقت بھی ان مشرکین کے مندروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خلفائے راشدین کے دور کے مسلمان حکمران اردگان کے مقابلے میں مذہبی طور پر زیادہ معتدل تھے۔

کرنک میں ایک رصد گاہ (Observatory) کے آثار بھی ملے ہیں جسے دنیا کی قدیم ترین معلوم رصد گاہ کہا جا سکتا ہے۔ ناسا کے ریسرچرز بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ ناسا کے مطابق یہ وقت کا حساب رکھنے والی ایک بہترین سائنسی لیبارٹری تھی۔ مصری 21 دسمبر کو سورج کے ڈھلنے اور نکلنے کے زاویے سے سال کے دن اور وقت کا بالکل درست اندازہ لگاتے تھے۔  ناسا نے اسے "نہایت اعلیٰ درجے کی سائنسی باریکی اور درستگی کا حامل قرار دیا ہے۔

قرآنِ مجید میں بھی ایک بلند مینار کا ذکر آتا ہے جہاں فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو اینٹیں پکا کر ایک بہت بلند عمارت (مینار) بنانے کا حکم دیا تھا تاکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رب کو دیکھ سکے (نعوذ باللہ)۔ کیا یہ وہی مینار ہے جسے ناسا رصد گاہ یا observatory کا نام دیتے ہیں؟ واللہ اعلم۔

یہ واقعہ قرآنِ پاک کی دو جگہوں پر تفصیل سے بیان ہوا ہے:

  1. سورۃ القصص (آیت 38)

    وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ مَا عَلِمْتُ لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرِي فَأَوْقِدْ لِي يَا هَامَانُ عَلَى الطِّينِ فَاجْعَل لِّي صَرْحًا لَّعَلِّي أَطَّلِعُ إِلَىٰ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ مِنَ الْكَاذِبِينَ

    (ترجمہ: "اور فرعون نے کہا: اے دربار والو! میں اپنے علاوہ تمہارے کسی معبود کو نہیں جانتا، پس اے ہامان! میرے لیے مٹی (کی اینٹوں) کو آگ میں پکوا، پھر میرے لیے ایک بلند محل (یا مینار) تیار کر تاکہ میں موسیٰ کے معبود کو دیکھ سکوں، اور میں تو اسے جھوٹا ہی سمجھتا ہوں۔")

  2. سورۃ غافر (آیات 36 - 37):

    وَقَالَ فِرْعَوْنُ يَا هَامَانُ ابْنِ لِي صَرْحًا لَّعَلِّي أَبْلُغُ الْأَسْبَابَ ۝ أَسْبَابَ السَّمَاوَاتِ فَأَطَّلِعَ إِلَىٰ إِلَٰهِ مُوسَىٰ وَإِنِّي لَأَظُنُّهُ كَاذِبًا...

    (ترجمہ: "اور فرعون نے کہا: اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت بنا تاکہ میں راستوں تک پہنچ سکوں، آسمانوں کے راستوں تک، پھر موسیٰ کے معبود کو جھانک کر دیکھ سکوں، اور میں تو اسے یقیناً جھوٹا ہی سمجھتا ہوں۔")

الصَّرْح (صرح): عربی زبان میں انتہائی بلند، صاف نظر آنے والی محل نما عمارت یا مینار کو کہتے ہیں۔

فَأَوْقِدْ لِي عَلَى الطِّينِ (مٹی کو آگ پر پکوا): یاد رہے، قدیم مصر میں بڑی عمارتوں کے لیے گارے کی اینٹوں کو کٹھیوں/بھٹوں (Kilns) میں پکا کر استعمال کرنے کی تکنیک عام تھی۔

آسمانی صحیفوں میں مذکور واقعات کو تاریخی حقائق کے ساتھ جوڑنے کے لیے کوئی واضح سند تو موجود نہیں کیونکہ صحیفوں میں کہیں بھی تواریخ (Dates) مذکور نہیں ہیں- مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام مشرقِ وسطیٰ میں آثارِ قدیمہ اگر ان واقعات کی پوری طرح تصدیق نہیں کرتے تو بھی انہیں جھٹلاتے بھی نہیں۔ 

ایک سوال جو شروع سے ہمارے ذہن میں گردش کرتا رہا، وہ یہ کہ فراعنہ کے مندر اور مقبرے تو بہت بڑی تعداد میں دریافت ہو چکے ہیں، انہیں بنانے والے غریب مزدوروں یا غلاموں کے گھر بھی موجود ہیں، مگر خود فراعنہ کہاں رہتے تھے؟ اس بارے میں محققین کی تھیوری یہ ہے کہ فراعنہ کے گھر پکی اینٹوں کے بنے ہوۓ تھے جو وقت کے ساتھ معدوم ہو گئے- 

ویسے فرعون ہم سے مشورہ کرتے تو ہم انہیں اپنے منادر میں رہائش کا ہی مشورہ دیتے- ہمارے نزدیک یہی انکے شایان شان تھا- یہ بات ہمارے دل کو کچھ لگی نہیں کہ جو حکمران اپنے مقبرے اتنے شاندار بنوائیں، وہ ایسی جگہ تو رہائش اختیار کریں جو وقت کے ساتھ ساتھ معدوم ہو جائے اور اس کا نام و نشان تک مٹ جائے۔ مگر لگتا ہے انھیں اپنی اگلی زندگی کی زیادہ پرواہ تھی-بحرحال ہمارے نزدیک فراعنہ کے مندر ہی ان کے محل اور دربار ہونے چاہئے تھے، یہی ان کے شایانِ شان تھے۔ 

دلچسپ بات یہ کہ ٹونی بلیئر بھی اپنی آمد کے پہلے ہی دن سب سے پہلے ہماری تقلید میں بچوں کو لے کر کرنک پہنچے اور دیر تک مندروں کے اس کمپلیکس کو دیکھ کر حیران ہوتے رہے۔

کرنک بلا شبہ جگہ ہی ایسی ہے کہ سلطنتِ برطانیہ کا سابق وزیراعظم ہو یا ہماری طرح کا مڈل کلاسیا، دیکھنے والے کو متاثر کیے بغیر نہیں چھوڑتی۔ توحید پر ایمان ہو تو انسان اس شان و شوکت کے پیچھے اللہ کی عظمت کو پہچانتا ہے، ورنہ اسے آثارِ قدیمہ سمجھ کر اپنے ذوق کے مطابق لطف اندوز ہوتا ہے۔

مگر سچ ہے کہ تقدیر نے اس قوم کو عبرت کا نشان بنا دیا۔ ان پہاڑوں کو شرما دینے والے اہرام، عبادت گاہیں، مندر، مقبرے، دیو ہیکل ستونوں پر لکھی تاریخ، مجسمے، یہاں تک کہ مردہ جسم بھی آج تک محفوظ ہیں—اگر نہیں ہے تو کوئی ان فراعنہ کے عقائد کو ماننے والا نہیں ہے۔ انکی عبادت کرنے والا نہیں- لیکن پھر بھی حسنی مبارک اور بعد ازاں سیسی کی صورت میں فراعنہ کی وہ روایت آج بھی موجود ہے جس کے تحت حکمران فوجی ڈکٹیٹر کی شکل میں خود خدا بن جاتا تھا اور اس کی اطاعت کرنا عوام کے لیے لازم قرار پاتی ہے۔

بقول اقبال 

تازہ ہر دور میں ہے قصہء فرعون و کلیم