قلعے سے سلطان حسن تک
اب ہم قلعہ کی دید اور قلعہ کی بلندی سے قاہرہ کی دید سے فارغ ہو گئے تھے- لیکن ٹیکسی ڈرائیور ہنوز غائب تھا- جھنجلاہٹ کے ساتھ ساتھ یہ خیال بھی آ رہا تھا کہ خدا نخواستہ اگر وہ واپس نحہ آیا تو ہمارے سامان کے ساتھ ساتھ کش بھی ٹیکسی میں ہی چھوٹے ہینڈ کیری میں رہ گیا ہے اور آج ہمیں دوپہر کی ٹرین سے اسکندریہ بھی روانہ ہونا تھا- قلعہ پر کھڑے ہو کر ڈرائیور کا انتظار کرنا بھی ہماری بے چین طبیعت پر بھاری تھا- بالاخر طے یہ ہوا کہ ہم بچوں کو لیکر اسلامی قاہرہ کی طرف پیدل نکلیں اور حسن ٹیکسی ڈرائیور کو لیکر نیچے پہنچیں- غنیمت تھا کہ ہم دونوں کے موبائلوں پر ٹیکسٹ رومنگ کام کر رہی تھی- اس لئے رابطہ رہنا ممکن تھا- قلعہ سے سلطاں حسن کے مدرسہ کا راستہ تقریباً چھ سو سے سات سو میٹر ہوگا اور راستہ قدرے نیچے اترتی ہوئی ڈھلان تھا اس لئے بچوں نے بھی بصد شوق طے کیا-
قلعۂ صلاح الدین سے اترتے ہوئے ہم نے ایک بار مڑ کر محمد علی پاشا کی سفید گنبدوں والی مسجد کو دیکھا۔ وہ جبل مقطم کی چوٹی پر ایسے ایستادہ تھی جیسے پورے قاہرہ پر نگہبان ہو۔ بلا شبہ یہ اپنی بلند لوکیشن مسجد اورعثمناوی طرز کے اس سے زیادہ بلند قامت میناروں کے ساتھ پورے اسلامی ادوار کے قاہرہ کی اسکائی لائن پر حاوی ہے اور اسلامی قاہرہ کا سب سے ممتاز آئیکن ہے-
نیچے صلاح الدین اسکوائر کی طرف جاتی ڈھلوان پر زندگی اپنے پورے شور کے ساتھ رواں تھی؛ ٹیکسیوں کے ہارن، گھوڑا گاڑیوں کی ٹاپ، خوانچہ فروشوں کی آوازیں، اور گرم ہوا کے ساتھ اڑتی ہوئی باریک زرد مٹی جو قاہرہ کے آسمان کو ہمیشہ ہلکی دھند میں لپیٹے رکھتی ہے۔ سامنے اسلامی قاہرہ کی افق پر گنبدوں اور میناروں کا ایسا جنگل ابھرتا تھا کہ یوں لگتا، ہر صدی نے اپنے حصے کا ایک مینار آسمان کے سپرد کر دیا ہے۔ انہی گنبدوں کے دامن میں سلطان حسن کی عظیم مسجد ہماری منزل تھی، اور ہمیں محسوس ہوا کہ ہم محض ایک سڑک پر نہیں بلکہ ایوبی قلعے سے مملوک قاہرہ کی تاریخ میں اتر رہے ہیں۔
مدرسۂ سلطان حسن: جب ہماری آنکھیں بھیگ گئیں
سلطان حسن کی سنگین دیواروں پر پہلی نظر پڑی تو بے اختیار ہماری آنکھیں نم ہو گئیں۔ یہ آنسو کسی عمارت کی بلندی کے نہیں تھے، بلکہ اس تہذیب کی عظمت کے تھے جس نے اپنے عروج میں علم کو بھی وہی شان بخشی جو قلعوں اور محلات کو۔ فراعین کے مصر کے دیوقامت منادر و مقابر ایک طرف اور مغلوں کی کی بنوائی نفیس مساجد، طاقت ورقلعہ بندیاں، الحمرا کے محلات اور باغات ایک طرف، مگر ایک ایسی یونیورسٹی، مملوک ادوار کا ایک بلند قامت مدرسہ کمپلیکس، جس کی ہیبت انسان کو اپنے وجود کی پستی کا احساس دلائے، پہلی بار قاہرہ میں ہمارے سامنے کھڑا تھا۔
مدرسے کا عظیم الشان دروازہ اپنے آپ میں ایک معمارانہ اعلان ہے۔ بلند محرابی مدخل، اوپر شہد کے چھتے کی مانند تراشے ہوئے مقرنس (Muqarnas)، اور کئی منزلہ سنگی پیشانی—یوں محسوس ہوتا ہے جیسے عمارت آسمان کی طرف نہیں اٹھتی، بلکہ آسمان کو اپنی طرف جھکا لیتی ہے۔ یہ مسجد و مدرسہ 1356ء میں مملوک سلطان الناصر حسن بن قلاوون نے تعمیر کرایا۔ اس دور میں یہ صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی ایک جامعہ (University) تھی، جہاں پانچ سو سے زیادہ طلبہ اور سیکنڑوں اساتذہ و خدام کے لیے مستقل وقف قائم کیا گیا تھا۔
1356ء میں مملوک سلطان الناصر حسن بن قلاوون نے قلعۂ صلاح الدین کے سامنے ایک ایسا مسجد و مدرسہ تعمیر کرانے کا حکم دیا جسے مؤرخ مقریزی نے “لا نظیر لہ”—یعنی “جس کی کوئی نظیر نہیں”—قرار دیا۔ سات برس میں مکمل ہونے والی یہ عظیم جامعہ اس دور کی سب سے بڑی علمی درسگاہ تھی، جہاں اہلِ سنت کے چاروں فقہی مکاتب—حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی—کی مستقل تدریس ہوتی تھی۔ اس کے لیے وسیع اوقاف مقرر کیے گئے، طلبہ و اساتذہ کی رہائش کا انتظام کیا گیا، اور یوں یہ عمارت صرف عبادت گاہ نہیں بلکہ چودھویں صدی کے عالمِ اسلام کی ایک مکمل یونیورسٹی بن گئی۔
مدرسے میں چاروں سنی فقہی مکاتب کے لیے علیحدہ ایوان مختص کرنا جہاں مملوک مصر کے علمی تنوع کا بین ثبوت تھا، وہاں شیعہ اور اسماعیلی اسکالرز کے لئے جگہ کا مفقود ہونا اس بات کا مظہر ہے کہ مملوک رواداری محض سنی مذھبی روایات کی ترویج تک محدود تھی-
اندر قدم رکھتے ہی شہر کا شور یکایک تحلیل ہو گیا۔ ہمارے سامنے سفید سنگِ مرمر کا کشادہ صحن تھا، درمیان میں وضو کا فوارہ، اور اس کے گرد چار فلک بوس ایوان—ہر ایوان ایک فقہی مدرسہ، ہر گوشہ علم کی ایک مستقل مجلس۔ چھتوں سے لٹکتے فانوس، دیواروں پر کوفی اور ثلث میں قرآنی آیات، اور محراب کے گرد رنگین سنگِ مرمر کی جڑائی ایسی خاموشی پیدا کرتی ہے جس میں آواز بلند کرنا بھی بے ادبی محسوس ہوتی ہے۔ ہمیں یوں لگا جیسے ابھی کسی ستون کے پاس ابنِ حجر عسقلانی، امام جلال الدین السیوطی یا کسی گمنام محدث کے گرد طلبہ حلقہ بنائے بیٹھے ہوں۔
یہاں مدرسہ حسن سے وابستہ، مسلم دنیا سے وابستہ معروف اسکالر ابن ہجر العسقلانی کا ذکر بے محل نہ ہو گا- اگرچہ ان کا خاندانی نسب فلسطین کے شہر عسقلان سے ملتا ہے، مگر ابنِ حجر پیدائشی طور پر مصری تھے اور انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ قاہرہ ہی میں گزارا۔ انکا تذکرہ یہاں اس لئے بر محل ہے کہ اندازہ ہو کہ مملوک مصر کے مدرسے کس درجے کے اہل علم کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوے تھے-
حافظ ابنِ حجر عسقلانی 1372ء میں قاہرہ میں پیدا ہوئے اور بچپن میں ہی یتیم ہو جانے کے باوجود اپنے سرپرست کی بہترین تربیت اور غیر معمولی ذہانت کے باعث محض نو برس کی عمر میں حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کر کے جلیل القدر علماء سے مستفید ہوئے۔ انہوں نے علمِ حدیث اور فقہ کی جستجو میں مصر کے علاوہ مکہ، مدینہ، دمشق اور یمن کے وسیع اسفار کیے، جس کے بعد وہ قاہرہ کے مرکزی مدارس—بشمول مدرسہ سلطان حسن—میں شیخ الحدیث اور طویل عرصے تک مصر کے قاضی القضاۃ (Chief Justice) کے منصب پر فائز رہے۔ اپنے دور میں 'امیر المؤمنین فی الحدیث' کا لقب پانے والے ابنِ حجر کا سب سے عظیم الشان علمی کارنامہ صحیح البخاری کی بے مثل شرح 'فتح الباری' کے تیرہ والیوم ہیں، جسے مکمل کرنے میں انہیں تقریباً پچیس سال کا طویل عرصہ لگا۔ 1449ء میں 77 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا تو ان کے جنازے میں مملوک سلطان سمیت قاہرہ کے ہزاروں افراد نے شرکت کی، اور انہیں قاہرہ کے تاریخی قبرستان القرافہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔
یاد رہے مدرسہ حسن جیسے مدرسے، بنیادی حفظ قرآن کے یا قرآن کی ابتدائی تعلیم کے مدرسے نہیں تھے بلکہ یہ ہائر ایجوکیشن کے انسٹیٹوٹس تھے جو آج کل کی جامعہ یعنی یونیورسٹیز اور تھنک ٹینکس کی طرح تحقیق اور تجزیہ اور مکالمہ کے فروغ میں کردار ادا کرتے تھے-
اس مدرسے کی ایک اور ستم ظریفی بھی تاریخ میں محفوظ ہے۔ یہ عمارت قلعۂ صلاح الدین کے بالکل سامنے تعمیر ہوئی، یہاں تک کہ مملوک ادوار میں بعض اوقات باغی اس کی چھت اور میناروں سے قلعے پر تیر اور منجنیق چلاتے تھے، اور چند سلاطین نے اسے منہدم کرنے کی تجویز بھی دی۔ مگر آخرکار علم کی یہ عمارت باقی رہی، اور آج بھی قاہرہ کی فضا میں اپنی قامت کے ساتھ اعلان کرتی ہے کہ تہذیبوں کی اصل عظمت ان کے لشکروں سے نہیں، ان کے مدارس سے پہچانی جاتی ہے۔
مدرسۂ سلطان حسن مملوک سلطنت کے عروج کی وہ یادگار ہے جو 1356ء سے 1363ء کے درمیان سلطان الناصر حسن بن محمد بن قلاوون کے حکم پر قاہرہ کے قلعے کے سامنے تعمیر کی گئی۔ یہ صرف ایک مسجد نہیں تھی بلکہ ایک عظیم جامعہ تھی جہاں اہلِ سنت کے چاروں فقہی مکاتب—حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی—کی تدریس کے لیے الگ الگ مدارس قائم کیے گئے تھے۔ اس زمانے کے مؤرخین نے اسے “دنیا میں بے مثال” عمارت قرار دیا، اور اس کی وسعت، بلند ایوانوں، عظیم صحن اور علمی مقاصد نے اسے اسلامی دنیا کے سب سے شاندار تعلیمی مراکز میں شامل کر دیا۔ سلطان حسن خود اس کی تکمیل سے پہلے قتل ہو گیا، مگر اس کا خواب زندہ رہا اور یہ عمارت آج بھی اس دور کی گواہی دیتی ہے جب علم، فقہ اور اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ وسائل اور عظمت وقف کی جاتی تھی جو دوسری تہذیبیں محلات اور شاہی عمارتوں پر خرچ کرتی تھیں۔
ایک دلچسپ بات یہ کہ سعودی مملکت میں ہماری رہائش کا شہر ضبأ الشمال مصری حج روٹ پر تھا- اس روٹ پر ملوک سلاطین کے بنوے ہوے قلعے بھی حاجیوں کی حفاظت اور ساحلی علاقے پر کنٹرول کے لئے موجود تھے اور سلطنت عثمانیہ کے بھی- ضبا سے کوئی ستر کلومیٹر پر ایک قلعہ سلطاں قلاعون کے دور کا تعمیر کردہ جس نے مدرسہ حسن کی بنیاد رکھی- یہاں اسکا تذکرہ اس لئے بر محل ہے کہ مصر فلسطین اور جزیرہ نما عرب پڑوسی تھے اور ایک وقت میں مملوک اور دوسرے میں سلطنت عباسیہ کے صوبے رہے-
سعودیہ میں ویسے عراق سے آنے والے، یمن سے ے والے، شام سے آنے والے اور مصر سے آنے والے چار حج کارواں روٹس تھے اور تقریباً سب پر سفر کرنے کا موقعہ ملا-
مملوک سلطنت (1250–1517ء) اسلامی تاریخ کی ان منفرد سلطنتوں میں سے ہے جس کی بنیاد شاہی خاندان نے نہیں بلکہ غلام سپاہیوں نے رکھی۔ ترک اور چرکسی نژاد مملوک ابتدا میں ایوبی سلاطین کے فوجی محافظ تھے، مگر 1250ء میں انہوں نے اقتدار سنبھال کر مصر اور شام کی ایک طاقتور سلطنت قائم کی۔ انہی کے دور میں 1260ء کی جنگِ عین جالوت میں منگولوں کو پہلی فیصلہ کن شکست ہوئی، صلیبی ریاستوں کا خاتمہ ہوا، اور قاہرہ عالمِ اسلام کا سب سے بڑا علمی و تجارتی مرکز بن گیا۔ سلطان حسن، قلاوون، برقوق اور قايتبای جیسے مملوک حکمرانوں نے وہ عظیم مساجد، مدارس، ہسپتال اور مقابر تعمیر کیے جن کی وجہ سے آج کا اسلامی قاہرہ عثمانوی اور فاطمی فن تعمیر کے ساتھ ساتھ مملوک فنِ تعمیر کا شاہکار بھی سمجھا جاتا ہے۔ 1517ء میں عثمانی سلطان سلیم اوّل نے مصر فتح کیا اور مملوک سلطنت کا خاتمہ ہوا، اگرچہ مملوک اشرافیہ کئی دہائیوں تک مصر کی سیاست میں بااثر رہی۔
سلطان حسن کے عظیم الشان مدرسے سے نکل کر جب ہم چند قدم ہی چلے تو سامنے مسجد و مدرسۂ رفاعی کی عمارت نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ دونوں عمارتیں اس قدر قریب اور ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہیں کہ جیسے تاریخ کے دو زمانے آمنے سامنے گفتگو کر رہے ہوں۔ سلطان حسن کا مدرسہ چودھویں صدی کے مملوک عہد میں سلطان حسن نے 1356ء میں شروع کرایا تھا، جبکہ رفاعی کی تعمیر کہیں بعد، انیسویں صدی میں خدیوی اسماعیل پاشا کے دور میں شروع ہوئی اور 1912ء میں مکمل ہوئی۔ اسے رفاعی خاندان اور صوفی شیخ احمد الرفاعی سے نسبت کی وجہ سے یہ نام ملا، اگرچہ شیخ رفاعی خود یہاں مدفون نہیں؛ عمارت میں بعد میں شاہی خاندان کے مقابر بھی بنائے گئے۔ ہم جب اس کے وسیع داخلی صحن اور بلند محرابوں کے نیچے داخل ہوئے تو یوں محسوس ہوا جیسے ابھی ابھی مملوک قاہرہ سے نکل کر ایک نئے عہد میں قدم رکھ دیا ہو۔ اندر سلطان حسن اور رفاعی کی عمارتیں ایک دوسرے کے بالکل سامنے ہونے کے باوجود ان کے درمیان تقریباً پانچ سو برس کی تاریخ حائل تھی—ایک طرف مملوک سلطنت کا جاہ و جلال، دوسری طرف جدید مصر کے شاہی خاندان کی شان و شوکت؛ اور دونوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں قاہرہ کی وہ عجیب خوبی پھر محسوس ہوئی کہ یہاں تاریخ کتاب کے ابواب کی طرح الگ الگ نہیں، بلکہ ایک ہی گلی میں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ملتی ہے۔
رفاعی مدرسے کی ایک اور اہم بات یہ کہ یہاں کسی غیر معروف شخصیت کے مقبرے کے ایک کونے میں شاہ ایران بھی دفن ہیں- کمرے میں مرکزی قبر اس شخصیت کی ہے اور ایک کونے میں ایک بچے کی قبر کی طرح شاہ ایران مدفوووں ہیں- دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو کی عملی تفسیر بنے ہوے اور
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
ویسے دو گز زمین نہ دلی کے بہادر شاہ ظفر کو بھی نہ ملی جنکا یہ شعر ہے اور غرناطہ کے ابو عبدللہ کو مگر شاید شاہ ایران خوش قسمت تھا کہ اسے ایران سے جلا وطن ہونے کے فوراً بعد کینسر ہو گیا اور قدرت نے اسے دنیا میں عبرت کا نشان بننے کے لئے زندہ نہ رکھا- اہم بات یہ کہ امریکا جسکا وہ ساری زندگی قریبی اتحادی رہا، اسے علاج کے لئے بھی قیام کی اجازت نہ دی- نہ برطانیہ اور کسی دوسرے یوروپی ملک نے- جگہ ملی تو اپنی سابقہ بیوی کے ملک میں جسے بیٹا نہ ہونے کے جرم کی پاداش میں اپنی زندگی سے نکال دیا تھا-
رفاعی مدرسے سے نکل کر ہم ٹیکسی میں ابنِ طولون کی طرف روانہ ہوئے۔ فاصلہ زیادہ نہ تھا، مگر ایسا لگتا تھا جیسے چند کلومیٹر میں ہم صدیوں پیچھے سفر کر رہے ہوں۔ یاد رہے ابن ٹولوں عباسی دور کے ایک خود مختار گورنر اہمیں ابن طولون نے جو خود بھی ایک غلام کا بیٹا تھا نے 876ء سے 879ء کے درمیان تعمیر کروائی- یہ غلاموں کی سلطنت کے قیام میں آنے سے کوئی پانچ صدیوں پہلے کی بات ہے- ویسے عالم اسلام میں غلاموں کے بادشاہ بن جانے کی تاریخ تقریباً اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود اسلام کی تاریخ-
مسجد کے دروازے پر پہنچ کر جوتے اتارے، اور اگرچہ آج کے سیاح کے لیے یہ ایک معمولی سا داخلی عمل ہے، مگر کپڑے کے جوتے یا حفاظتی غلاف پہن کر جب ہم اندر بڑھے تو یوں محسوس ہوا جیسے باہر کا قاہرہ وہیں چھوڑ آئے ہوں۔ سامنے ایک وسیع، خاموش صحن کھلا تھا؛ چاروں طرف محرابوں کے لمبے سلسلے، سرخی مائل اینٹوں اور سفید گچ کی سادہ آرائش، اور درمیان میں فوارے کا گنبد۔ یہ وہی مسجد تھی جو 876ء سے 879ء کے درمیان احمد ابنِ طولون نے اپنے شہر القطائع کے لیے بنوائی تھی—یعنی جب یورپ ابھی قرونِ وسطیٰ کی ابتدائی دھند میں تھا، یہاں ایک ایسی عظیم جامع مسجد کھڑی ہو رہی تھی جس کی وسعت آج بھی انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
ہم صحن میں چند قدم آگے بڑھے تو عجیب سا سکون محسوس ہوا۔ یہاں نہ سلطان حسن کی مملوکی شان و شوکت تھی، نہ رفاعی کے شاہی مقابر کی بھاری فضا؛ ابنِ طولون میں عظمت کچھ اور طرح کی تھی—سادگی میں پھیلی ہوئی، خاموش اور بے تکلف۔ یکساں محرابیں دور تک چلی گئی تھیں اور ان کے بیچ سے آسمان کا نیلا ٹکڑا دکھائی دیتا تھا۔ اوپر نظر اٹھائی تو سامرہ کی یاد دلاتا ہوا وہ منفرد حلزونی مینار نظر آیا۔ (Egyptian Monuments
ہمیں اچانک احساس ہوا کہ ہم کسی عجائب گھر میں محفوظ نوادرات نہیں دیکھ رہے؛ ہم ایک ایسی عبادت گاہ کے اندر کھڑے ہیں جہاں بارہ سو برس پہلے بھی لوگ اسی صحن میں جمع ہوتے، اسی سمت رخ کرتے اور اسی آسمان کے نیچے نماز پڑھتے تھے۔ شاید قدیم عمارتوں کا اصل جادو یہی ہے کہ وہ تاریخ سناتی نہیں، اسے چند لمحوں کے لیے ہمارے سامنے زندہ کر دیتی ہیں۔ یہ شاید عباسی دور کی واحد امارت تھی جو ہماری لسٹ میں شامل تھی- اور ظاہری شان و شوکت سے مبرا اسکا فن تعمیر ہمیں بتا رہا تھا کہ اس عمارت کی عظمت اسکی سادگی میں بھی پوشیدہ ہے-
Trash
یہ عمارت خوشیار ہانم (Khoshiyar Hanim)، خدیوی اسماعیل کی والدہ، نے اپنے خاندان کے لیے مقبرے اور ایک عظیم الشان مسجد کی تعمیر کا منصوبہ بنوایا تھا۔ تعمیر 1869ء میں شروع ہوئی، مگر مختلف وجوہ سے مکمل ہونے میں کئی دہائیاں لگیں اور بالآخر 1912ء میں مکمل ہوئی۔
یعنی دونوں کے درمیان ایک دلچسپ فرق ہے: سلطان حسن کا مملوکی مدرسہ ایک سلطان کا منصوبہ تھا، جبکہ اس کے عین سامنے رفاعی مسجد و مقبرہ ایک بااثر شاہی خاتون کی شروع کردہ تعمیر تھی
جی۔ مسجد الرفاعی سے مسجد ابنِ طولون تقریباً 2.2 کلومیٹر ہے؛ گاڑی سے عموماً چند منٹ کا فاصلہ ہے۔ دونوں تاریخی قاہرہ کے نسبتاً قریب حصے میں ہیں۔ Mosque of Ibn Tulun
مسجد ابنِ طولون کے لیے ایک اہم بات: یہ 876ء سے 879ء کے درمیان تعمیر ہوئی، یعنی آپ واقعی نویں صدی کی ایک ایسی مسجد میں داخل ہوتی ہیں جس کا اصل نقشہ بڑی حد تک محفوظ ہے۔ مصری وزارتِ سیاحت و آثار کے مطابق اسے احمد ابنِ طولون نے اپنے نئے شہر القطائع کی جامع مسجد کے طور پر بنوایا تھا۔
آپ کے سفرنامے کے لیے منظر یوں لکھا جا سکتا ہے:
میں نے “کپڑے کے جوتے” کو آپ کے مشاہدے کے طور پر رکھا ہے، مگر عمومی طور پر یہاں اصول جوتے اتارنے کا ہے؛ خواتین کے لیے مناسب، باوقار لباس بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
بالکل۔ ابنِ طولون کو عباسی دور کے مصر میں مقامی خودمختاری کے ایک اہم نمونے کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہوگا۔ احمد ابنِ طولون عباسی خلیفہ کی طرف سے مصر کا گورنر بنا، مگر رفتہ رفتہ اس نے مصر و شام میں عملی خودمختاری حاصل کرلی؛ عباسی خلافت کی رسمی بالادستی برقرار رہی اور خطبہ و سکہ اسی نسبت کو ظاہر کرتے رہے۔
مینار کے بارے میں ایک اہم بات: موجودہ منفرد حلزونی مینار کی تعمیر کا تعلق ابنِ طولون کے عہد سے ہے، اگرچہ اس کی موجودہ بیرونی شکل میں بعد کی مرمتوں کے اثرات بھی ہیں۔ اس کا ڈیزائن سامرہ کے مشہور ملویہ مینار کی یاد دلاتا ہے۔
آپ کے سفرنامے میں اسے یوں شامل کیا جا سکتا ہے:
یہ مسجد مصر کے اس عباسی عہد کی یادگار ہے جب بغداد کی خلافت کمزور پڑ رہی تھی اور مصر میں مقامی حکمران عملاً خودمختار ہوتے جا رہے تھے۔ احمد ابنِ طولون بھی ابتدا میں عباسی خلیفہ کا مقرر کردہ گورنر تھا، مگر رفتہ رفتہ اس نے مصر اور شام پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ باجود اس کے کہ اقتدار ہاتھ سے نکل کر مقامی حکمران کے پاس آ گیا تھا، خلافتِ عباسیہ کی رسمی نسبت باقی رہی؛ خطبے میں خلیفہ کا نام لیا جاتا اور سکہ بھی اسی خلافت کی علامت لیے ہوئے تھا۔
مسجد کے صحن سے جب ہم نے اس کے منفرد حلزونی مینار کو دیکھا تو نگاہ دیر تک وہیں ٹھہری رہی۔ گولائی میں اوپر چڑھتا ہوا یہ مینار ہمیں عراق کے شہر سامرہ کے ملویہ مینار کی یاد دلاتا ہے، جیسے عباسی دنیا کی ایک تعمیراتی یاد قاہرہ تک سفر کرکے آ گئی ہو۔ بارہ سو برس کے قریب پرانی اس عمارت میں کھڑے ہو کر ہمیں یوں لگا کہ تاریخ کبھی ایک شہر میں مقید نہیں رہتی؛ سلطنتیں کمزور ہوتی ہیں، حکمران بدلتے ہیں، مگر ان کے فنِ تعمیر کے نقش صدیوں تک ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفر کرتے رہتے ہیں۔
مسجد ابنِ طولون میں ہمیں عباسی فنِ تعمیر کی جھلک دکھائی دی، اگرچہ اس کی مماثلت براہِ راست بغداد سے زیادہ سامرہ کے فنِ تعمیر سے ہے۔ احمد ابنِ طولون خود سامرہ کے عباسی دربار کے ماحول میں پروان چڑھا تھا، چنانچہ مسجد کی وسیع سادگی، محرابوں کی تکرار اور خاص طور پر وہ حلزونی مینار ہمیں عراق کی عباسی دنیا سے جوڑتا محسوس ہوا۔ سامرہ ہم دیکھ نہیں سکے تھے، اور بغداد بھی ہماری خواہشوں کی فہرست میں ابھی تک ایک ادھورا نام ہے—دل میں مدت سے خواہش تھی کہ کبھی دجلہ کے کنارے اس شہر کو بھی دیکھیں، مگر سفر ہمیں ابھی وہاں تک نہیں لے گیا۔ یوں ابنِ طولون کے صحن میں کھڑے ہو کر ہمیں عجیب سا احساس ہوا کہ کبھی کبھی آدمی ان شہروں کی تہذیب کے آثار تو دیکھ لیتا ہے جہاں وہ خود نہیں جا سکا؛ تاریخ راستے میں مل جاتی ہے، منزل پھر بھی باقی رہتی ہے۔
سامرہ عراق میں، بغداد سے تقریباً 125 کلومیٹر شمال میں دریائے دجلہ کے کنارے واقع تاریخی شہر ہے۔ Samarra
یہ عباسی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ 836ء میں خلیفہ المعتصم نے بغداد سے دارالحکومت سامرہ منتقل کیا اور تقریباً 56 برس تک یہ عباسی خلافت کا مرکز رہا۔ اسی دور میں سامرہ کی عظیم مسجد اور اس کا مشہور ملویہ (حلزونی) مینار تعمیر ہوا۔
اور یہی وہ نکتہ ہے جو مسجد ابنِ طولون کو سامرہ سے جوڑتا ہے: ابنِ طولون خود سامرہ کے عباسی فوجی و درباری ماحول میں پروان چڑھا تھا، اس لیے مسجد کے وسیع صحن، سادہ محرابوں اور خصوصاً حلزونی مینار میں سامرہ کے عباسی طرز کی بازگشت دکھائی دیتی ہے۔
آپ کے سفرنامے میں “بغداد نہیں جا سکے” کے ساتھ سامرہ کا ذکر کرنے سے ایک خوبصورت تہذیبی ربط بن سکتا ہے: ہم بغداد کی خواہش دل میں لیے قاہرہ آئے، اور یہاں سامرہ کی ایک جھلک ابنِ طولون کے مینار میں مل گئی۔
ابنِ طولون میں داخل ہو کر سب سے پہلے جو چیز اپنی وسعت سے حیران کرتی ہے وہ اس کا کشادہ مربع صحن ہے۔ چاروں طرف محرابوں کے طویل سلسلے اور درمیان میں بالکل مرکز میں وہ فوارہ، جو بظاہر اسی قدیم مسجد کا حصہ معلوم ہوتا ہے، مگر دراصل تیرہویں صدی میں مملوک سلطان لاجین نے بنوایا تھا۔ یوں ایک ہی صحن میں دو زمانے آمنے سامنے کھڑے ہیں: نویں صدی کا ابنِ طولون کا عباسی طرزِ تعمیر اور تقریباً چار سو برس بعد کا مملوک اضافہ۔ ہم نے صحن کے بیچ کھڑے ہو کر چاروں طرف نظر دوڑائی تو مسجد کا نقشہ جیسے آنکھوں کے سامنے کھل گیا—درمیان میں وسیع آسمانی صحن، اس کے گرد مسلسل محرابیں، اور باہر ایک اور خاموش حصار؛ جیسے شہر کے شور سے عبادت کی اس جگہ کو کئی تہوں میں الگ کر دیا گیا ہو۔
جی، فوارے کو نمایاں کرتے ہوئے ایک اہم فرق بھی واضح کرنا چاہیے: موجودہ فوارہ اور اس کا گنبد مملوک سلطان لاجین نے 1296ء میں بنوایا تھا، البتہ اسی مقام پر ابنِ طولون کے زمانے میں بھی ایک فوارہ موجود تھا۔ موجودہ ڈھانچہ مربع، چاروں طرف سے کھلے محرابی طاقوں والا ہے؛ اس کے اندر آٹھ پہلوؤں والا سنگی حوض ہے اور اوپر اینٹوں کا گنبد ہے۔ گنبد کے اندر مقرنس نما گوشے اسے سہارا دیتے ہیں۔
سب سے اہم بات مقام ہے: یہ فوارہ صحن کے عین وسط میں ہے۔ ابنِ طولون کی مسجد کا تقریباً 92×92 میٹر کا مربع صحن خود عمارت کے نقشے کا مرکزی محور ہے، اور فوارہ اسی کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔
سفرنامے میں منظر یوں زیادہ نمایاں ہوگا:
صحن کے عین بیچ ایک خوب صورت گنبد نظر آتا ہے۔ قریب گئے تو معلوم ہوا کہ یہ محض فوارہ نہیں، اپنے اندر ایک پوری معماری لیے کھڑا ہے۔ چاروں طرف سے کھلا ہوا مربع سنگی ڈھانچا، اس کے بیچ آٹھ پہلوؤں والا حوض اور اوپر اٹھتا ہوا گنبد—جیسے وسیع صحن کی خاموشی کا مرکز یہی ہو۔ ہمیں یہ جان کر دلچسپی ہوئی کہ یہ نویں صدی کے ابنِ طولون کے زمانے کا اصل فوارہ نہیں؛ موجودہ گنبد اور فوارہ مملوک سلطان لاجین نے 1296ء میں بنوایا تھا۔ یوں صحن کے عین وسط میں کھڑی یہ چھوٹی سی عمارت بھی قاہرہ کی تاریخ کی طرح تہہ در تہہ ہے: نیچے طولونی دور کی یاد، اوپر مملوک دور کا اضافہ، اور چاروں طرف نویں صدی کی وہ عظیم مسجد جس نے صدیوں کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔
