سفرنامۂ مصر: بحیرۂ احمر کے ساحلوں سے بحیرۂ روم تک
قسط نمبر ایک: ذکر اس پری وش کا اور تیرا بیان غالب
آوارہ گردی کا یوں تو ہمیں بچپن، بلکہ شیرخوارگی کی عمر سے ہی شوق رہا۔ اسکول کے زمانے میں آوارہ گرد کی ڈائری پڑھی تو یہ دو آتشہ ہوگیا اور ابنِ بطوطہ بننے کے شوق نے انگریزی اور اردو کا سفر خوب کروایا۔ ہمارے مالی حالات کبھی قابلِ رشک نہ رہے، مگر وہ جو کہتے ہیں:
؎ دل والوں کی دور پہنچ ہے، ظاہر کی اوقات نہ دیکھ
انگریزی کا محاورہ when there is a will, there is a way، یعنی جہاں چاہ، وہاں راہ، ہمارے اوپر کچھ زیادہ ہی صادق آتا چلا گیا۔ دنیا کو بازیچۂ اطفال بنانے کے شوق نے سن 2000ء میں بذریعۂ قاہرہ یورپ کا سفر کروایا۔
بحیرۂ احمر کو پار کرکے مصر پہنچنے کا ہمارا خواب بھی بہت پرانا تھا۔ 1996ء میں زمانۂ طالب علمی میں اپنے عمرے کے سفر کے دوران مکہ مکرمہ میں بڑی تعداد میں مصریوں کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ بحری جہاز کے ذریعے عمرے اور حج کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں۔ نقشہ کھنگالا تو پتا چلا کہ سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع سے مصر کا فاصلہ کچھ زیادہ نہیں۔ اسی وقت سے یہ خواہش بیدار ہوئی کہ بحیرۂ احمر کو پار کرکے سنّتِ موسیٰ پر عمل کی سعادت حاصل کی جائے۔ گو ان کے تعاقب میں فرعون کی فوج تھی اور ہمیں کوئی ایسی مجبوری لاحق نہیں تھی۔ ایک عشرے بعد یہ خواہش کچھ اس طرح تکمیل کو پہنچی کہ مشیتِ الٰہی نے ہمیں بحیرۂ عرب کے ساحلوں سے اٹھا کر سرزمینِ حجاز پر، بحر احمر کے کنارے مصر کے انتہائی قریبی مقام پر، لا پٹخا۔
؎ دیکھ ذرا کرتار کہ کھیل
کرتار بمعنی خالق یا خدا
ہمارے پہلے عمرے کے پورے دس سال بعد حسن کو سعودی منسٹری آف ہیلتھ میں ایک اچھی آفر ہوئی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ حجاز کی سرزمین پر رہائش ہماری دیرینہ خواہش تھی، جس کے لیے ہم عرصے سے بیتاب تھے۔ حسن نے ہمیں لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ تم پہلے اپنی پڑھائی مکمل کرلو، پھر چلیں گے۔ لیکن کعبہ نامی اس حسین قیامت سے پہلی ہی نظر میں جو عشق ہوا، اس لو ایٹ فرسٹ سائٹ کے بعد سے اللہ کے گھر نے ہمارے دل میں گھر کر لیا تھا۔ یہ تصور ہی روح کو سرشار کردینے والا تھا کہ بغیر ویزا اور ایئر ٹکٹ کے، جب دل چاہے گا، محبوب کے گھر جا کر، جو اب بذاتِ خود بہت محبوب ہوگیا تھا، اس سے راز و نیاز کرسکیں گے۔ اور سچی بات تو یہ بھی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاحت کی خواہش، جو دل میں انگڑائی لیتی رہتی تھی، وہ بھی اب منہ ہاتھ دھو کر چلنے کے لیے تیار ہوگئی تھی۔
مکہ اور مدینہ سے فاصلے کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ مدینے کے مقابلے میں بیت المقدس، یعنی یروشلم، سے فاصلہ قدرے کم ہے۔ گو فلسطین پر اسرائیلی کنٹرول کے سبب بیت المقدس کا سفر پاکستانی پاسپورٹ پر شدید خواہش کے باوجود تقریباً ناممکن تھا، خصوصاً اس صورت میں کہ آپ سعودی عرب میں ملازمت و رہائش رکھتے ہوں۔
اور یوں نومبر 2006ء میں ہم اپنے ٹیلی کام PhD کو نامکمل چھوڑ کر آئی بی اے (IBA) کی تدریسی ذمہ داریوں سے ایک سال کی طویل رخصت پر، بچوں سمیت، مملکت کی شمالی سرحد پر واقع اس چھوٹے سے شہر میں آ پہنچے۔ شمالی سعودی عرب میں تبوک کی پہاڑیوں اور دوسری طرف بحرِ احمر کے درمیان اس سہانے سے شہر کی چوڑائی محض ڈیڑھ سے دو کلومیٹر اور لمبائی ساحل کے ساتھ ساتھ کوئی چھ سے آٹھ کلومیٹر، آبادی کوئی 20 سے 25 ہزار تھی۔
کراچی کے مقابلے میں خوب کھلی کھلی سڑکیں، صاف پانی، تازہ ہوا۔ شہر بھر میں صرف دو ٹریفک سگنل۔ ہم مصطفیٰ کمال کا ادھڑا ہوا، زیرِ تعمیر کراچی چھوڑ کر گئے تھے، جہاں گاڑی رینگتی بھی مشکل سے تھی۔ ایک کراچی والا ہی ہمارے جذبات کا صحیح اندازہ کرسکتا ہے۔
ساحل پر واقع ہمارے گھر کے داخلی راستے، کھڑکیوں، چھت اور سیڑھیوں سے سمندر کا نظارہ۔ گھر کے پیچھے مصنوعی تالابوں، پلے ایریا اور واکنگ ٹریکس سے مزیّن خوبصورت کارنش۔ ہم نے خواب میں بھی کبھی بحرِ احمر کو اپنے پچھلے صحن میں نہیں دیکھا تھا۔
Sunset at Red Sea at the back of my house, Duba, Tabuk Region, Saudi Arabia
اب ضبا پہنچ کر نہ لیکچر تیار کرنے کی مصروفیت، نہ کلاس میں پہنچنے کی جلدی، نہ پیچیدہ اسائنمنٹس، نہ ماہانہ ایگزامز کی تیاری، نہ دقیق ریسرچ پیپرز اور نہ پریزنٹیشنز، اور نہ ہی کانفرنسز۔ نہ یونیورسٹی جانے سے پہلے جلدی جلدی کھانا پکانے اور گھر کے کام کاج کی فکر۔ یعنی ہم یک جنبشِ طیارہ، درس و تدریس کی ذمہ داریوں سے فارغ ہوگئے تھے۔ یہ اور بات کہ بچوں کے لیے انگلش میڈیم اسکول نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ذاتی بچوں کی ہوم اسکولنگ اب ہمارا فریضہ بن گئی۔ چلیں جی، بچوں کو صبح صبح تیار کرکے اسکول بھیجنے کی ذمہ داری اور روز ان کے کپڑوں، جوتوں کی فکر بھی ختم۔
حسن شہر کے واحد چیسٹ اسپیشلسٹ تھے اور ہفتے سے بدھ آٹھ گھنٹے کی ڈیوٹی کے علاوہ بھی مسلسل کال پر رہتے۔ یکایک معمول میں تبدیلی سے ہمیں بے خوابی رہنے لگی۔ کہاں کراچی میں سونے کا وقت نکالنا شہد کی نہر کھودنے کے مترادف تھا اور کہاں رات گزارنا مشکل ہوگیا۔
راتوں کو انٹرنیٹ کی تلاوت ہمارا معمول بن گئی۔ تاریخ کا مطالعہ شروع کیا تو معلوم ہوا یہ علاقہ تاریخی طور پر قرآن میں مذکور مدین کا حصہ رہا ہے۔ آج کل یہاں سعودیہ کا جدید منصوبہ نیوم ستی تعمیر ہو رہا ہے- حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے پہلی مرتبہ ہجرت کے بعد یہیں مقیم ہوئے۔
گو مدین کی جغرافیائی حدود کا آغاز دریائے اردن سے ہوتا تھا۔ کوئی ڈیڑھ سو کلومیٹر شمال میں مقنا شہر کے نزدیک کچھ کھنڈرات قریۂ شعیب، یعنی شعیب کی بستی، کہلاتے۔ وہیں ایک کنواں عینِ موسیٰ، جس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں کی بکریوں کو پانی پلایا۔ سمندر کے اس پار مصر کے صحرائے سینا کے پہاڑ بھی نظر آتے۔
مقنا سے تقریباً پچاس کلومیٹر آگے خشکی کا ایک حصہ سمندر میں در آیا ہے، جس کا آخری سرا راس حمید کہلاتا ہے۔ عربی میں سمندر کے اندر دور تک نکلی ہوئی خشکی کے ایسے حصے کو راس کہتے ہیں جسے انگریزی میں کیپ کہتے ہیں۔ یہاں سے مصر اتنا قریب کہ موبائل پر مصر سے رومنگ سگنل آنا شروع ہوجاتے۔ مطلع صاف ہو تو صحرائے سینا کے پہاڑ صاف نظر آتے۔
معلوم ہوا کہ راس حمید سے ایک سمندری پل کے ذریعے مصر اور سعودی عرب کو خشکی کے راستے ملانے کا منصوبہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کے اعتراض کی وجہ سے التوا کا شکار ہے۔ صحرائے سینا اور راس حمید کے درمیان تیران اور صنافر نامی دو جزیرے، سعودی عرب کی ملکیت، مگر بعض مستند خبروں کے مطابق بین الاقوامی نگرانی کے نام پر اسرائیل کے زیرِ استعمال۔ کوئی تین سو کلومیٹر شمال میں مملکت کا سرحدی شہر حقل جہاں اردن، مصر، سعودی عرب اور فلسطین کی سرحدیں ایک دوسرے کو قطع کرتیں۔ اسی مقام پر اسرائیل کی بحیرہ احمر کی واحد بندرگاہ ایلات واقع ہے- گو یہ قران اور بائبل میں مذکور ایلات سے کچھ فاصلے پر ہے جو فی الوقت میں اردن میں واقع ہے مگر اسرائیل نے اسے ایلات کا نام دیا ہے- انکے پالیسی میکرز کا کہنا کہ جب اردن گریٹر اسرائیل کا شہر بنے گا تب تک اسے ہی ایلات کہہ لیا جائے-
جدہ،مکّہ اور مدینہ تینوں ضبا کے جنوب میں، لیکن ضبا سے بالترتیب نو سو ، آٹھ سو پچاس اور سات سو کلومیٹر کی مسافت پر۔
ایک شامی مصنف ڈاکٹر شوق الخلیلی کی ترتیب کردہ اطلس القرآن (Quranic Atlas) وغیرہ کے مطالعے اور اس علاقے کا قرآن میں تذکرہ ہونے کے سبب ہماری دلچسپی ارضِ قرآن میں بڑھتی چلی گئی، جو جغرافیائی لحاظ سے ہمیں گھیرے ہوئے تھا۔
ہمارا سارا سال اردن، مقبوضہ فلسطین اور اس سے آگے شام، ترکی اور بحراحمر کے پار مصر کی سیاحت کے خواب دیکھتے گزرا۔ ان میں مصر اور اردن، جو ہم سے تقریباً تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھے، کی سیاحت کا زیادہ اشتیاق رہا۔
حسن ابتدا میں بچوں کے ساتھ اس نوعیت کی آوارہ گردی کے لیے راضی نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاحت کا شوق مجھے بھی ہے، مگر میں تمہاری طرح دیوانہ نہیں ہوں۔ ہم کیا جواب دیتے، انشا جی پہلے ہی ہمارے لیے کہہ گئے تھے:
؎ دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
بدقتِ تمام سال کے آخر تک حسن راضی ہو ہی گئے اور اس سے قبل، کامیابی کی امید پر، ہم مصر کے قابلِ دید مقامات کے تاریخی تذکرے اور سیاحتی احوال وغیرہ کا اپنا ہوم ورک تقریباً مکمل کرچکے تھے۔ سفر کا پلان بھی تیار تھا، جس کے مطابق ضبا سے غردقہ، وہاں سے الاقصر، وہاں سے قاہرہ، اور قاہرہ سے اسکندریہ اور پھر غردقہ واپسی شامل تھے، لیکن سمندر پار کے مختصر سفر سے پیشتر ساڑھے آٹھ سو کلومیٹر دور جدہ جاکر ویزا لینا بھی ضروری تھا۔
چلیے، آپ بھی کیا یاد کریں گے۔ آپ کو بھی مصر نامی اس حسینہ سے ملواتے ہیں، جس نے اپنے عجائبات سے تمام عالم کو ہزاروں سال سے اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔
؎ ذکر اس پری وش کا اور تیرا بیاں غالب
No comments:
Post a Comment